تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب

نظیر اکبرآبادی

تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحب

    جگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحب

    غلام عاشق و چاکر مصاحب و ہم راز

    غرض جو تھا ہمیں ہونا سو ہو لیے صاحب

    قرار و صبر جو کرنے تھے کر چکے برباد

    حواس و ہوش جو کھونے تھے کھو لیے صاحب

    ہمارے وزن محبت میں کچھ ہو فرق تو اب

    پھر امتحاں کی ترازو میں تولیے صاحب

    کچھ انتہائے بکا ہو تو اور بھی یک چند

    سرشک چشم سے موتی کو رولیے صاحب

    کل اس صنم نے کہا دیکھ کر ہمیں خاموش

    کہ اب تو آپ بھی ٹک لب کو کھولیے صاحب

    یہ سن کے میں نے نظیرؔ اس سے یوں کہا ہنس کر

    جو کوئی بولے تو البتہ بولئے صاحب

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے