Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

نوشاد علی

آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

نوشاد علی

MORE BYنوشاد علی

    آگ اک اور لگا دیں گے ہمارے آنسو

    نکلے آنکھوں سے اگر دل کے سہارے آنسو

    حاصل خون جگر دل کے ہیں پارے آنسو

    بے بہا لعل و گہر ہیں یہ ہمارے آنسو

    ہے کوئی اب جو لگی دل کی بجھائے میری

    ہجر میں روکے گنوا بیٹھا ہوں سارے آنسو

    اس مسیحا کی جو فرقت میں ہوں رویا شب بھر

    بن گئے چرخ چہارم کے ستارے آنسو

    خون دل خون جگر بہہ گیا پانی ہو کر

    کچھ نہ کام آئے محبت میں ہمارے آنسو

    مجھ کو سونے نہ دیا اشک فشانی نے مری

    رات بھر گنتے رہے چرخ کے تارے آنسو

    وہ سنور کر کبھی آئے جو تصور میں مرے

    چشم مشتاق نے صدقے میں اتارے آنسو

    پاس رسوائی نے چھوڑا نہ سکوں کا دامن

    گرتے گرتے رکے آنکھوں کے کنارے آنسو

    لطف اب آیا مری اشک فشانی کا حضور

    پیاری آنکھوں سے کسی کے بہے پیارے آنسو

    میری قسمت میں ہے رونا مجھے رو لینے دو

    تم نہ اس طرح بہاؤ مرے پیارے آنسو

    ماہ و انجم پہ نہ پھر اپنے کبھی ناز کرے

    دیکھ لے چرخ کسی دن جو ہمارے آنسو

    یوں ہی طوفاں جو اٹھاتے رہے کچھ دن نوشادؔ

    آگ دنیا میں لگا دیں گے ہمارے آنسو

    مأخذ :
    • کتاب : Aathwan Sur
    • Author : Naushad Ali
    • مطبع : Naushad Academi Of Hindustani Sangeet (2006)
    • اشاعت : 2006
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے