ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

شکیب جلالی

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

شکیب جلالی

MORE BYشکیب جلالی

    ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

    بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

    آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر

    تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

    پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ

    دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

    یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں

    سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

    کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے

    کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر

    جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی

    پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

    ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے

    چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

    سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک

    بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

    حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ

    چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے