ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

اعجاز رحمانی

ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

اعجاز رحمانی

MORE BYاعجاز رحمانی

    ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں

    دیا جلا کے سر شام چھوڑ آیا ہوں

    کبھی نصیب ہو فرصت تو اس کو پڑھ لینا

    وہ ایک خط جو ترے نام چھوڑ آیا ہوں

    ہوائے دشت و بیاباں بھی مجھ سے برہم ہے

    میں اپنے گھر کے در و بام چھوڑ آیا ہوں

    کوئی چراغ سر رہ گزر نہیں نہ سہی

    میں نقش پا کو بہر گام چھوڑ آیا ہوں

    ابھی تو اور بہت اس پہ تبصرے ہوں گے

    میں گفتگو میں جو ابہام چھوڑ آیا ہوں

    یہ کم نہیں ہے وضاحت مری اسیری کی

    پروں کے رنگ تہہ دام چھوڑ آیا ہوں

    وہاں سے ایک قدم بھی نہ جا سکی آگے

    جہاں پہ گردش ایام چھوڑ آیا ہوں

    مجھے جو ڈھونڈھنا چاہے وہ ڈھونڈھ لے اعجازؔ

    کہ اب میں کوچۂ گمنام چھوڑ آیا ہوں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    اعجاز رحمانی

    اعجاز رحمانی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے