Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

داغؔ دہلوی

اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    اس نہیں کا کوئی علاج نہیں

    روز کہتے ہیں آپ آج نہیں

    کل جو تھا آج وہ مزاج نہیں

    اس تلون کا کچھ علاج نہیں

    آئنہ دیکھتے ہی اترائے

    پھر یہ کیا ہے اگر مزاج نہیں

    لے کے دل رکھ لو کام آئے گا

    گو ابھی تم کو احتیاج نہیں

    ہو سکیں ہم مزاج داں کیونکر

    ہم کو ملتا ترا مزاج نہیں

    چپ لگی لعل جاں فزا کو ترے

    اس مسیحا کا کچھ علاج نہیں

    دل بے مدعا خدا نے دیا

    اب کسی شے کی احتیاج نہیں

    کھوٹے داموں میں یہ بھی کیا ٹھہرا

    درہم داغ کا رواج نہیں

    بے نیازی کی شان کہتی ہے

    بندگی کی کچھ احتیاج نہیں

    دل لگی کیجئے رقیبوں سے

    اس طرح کا مرا مزاج نہیں

    عشق ہے پادشاہ عالم گیر

    گرچہ ظاہر میں تخت و تاج نہیں

    درد فرقت کی گو دوا ہے وصال

    اس کے قابل بھی ہر مزاج نہیں

    یاس نے کیا بجھا دیا دل کو

    کہ تڑپ کیسی اختلاج نہیں

    ہم تو سیرت پسند عاشق ہیں

    خوب رو کیا جو خوش مزاج نہیں

    حور سے پوچھتا ہوں جنت میں

    اس جگہ کیا بتوں کا راج نہیں

    صبر بھی دل کو داغؔ دے لیں گے

    ابھی کچھ اس کی احتیاج نہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم,

    نعمان شوق

    اس نہیں کا کوئی علاج نہیں نعمان شوق

    جاوید نسیم

    اس نہیں کا کوئی علاج نہیں جاوید نسیم

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے