Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

خمار بارہ بنکوی

جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

خمار بارہ بنکوی

MORE BYخمار بارہ بنکوی

    جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں

    کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

    دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں

    ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں

    اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں

    دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں

    گزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم

    کچھ دور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں

    اے جوش گریہ دیکھ نہ کرنا خجل مجھے

    آنکھیں مری ضرور ہیں آنسو پرائے ہیں

    اے موت اے بہشت سکوں آ خوش آمدید

    ہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں

    جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آج

    ہم تشنہ کام زہد کے صحرا سے آئے ہیں

    انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سے

    مجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں

    سمجھاتے قبل عشق تو ممکن تھا بنتی بات

    ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں

    کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرت خمارؔ

    یہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بیگم اختر

    بیگم اختر

    خمار بارہ بنکوی

    خمار بارہ بنکوی

    RECITATIONS

    خمار بارہ بنکوی

    خمار بارہ بنکوی,

    خمار بارہ بنکوی

    جھنجھلائے ہیں لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں خمار بارہ بنکوی

    موضوعات

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے