کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں

جون ایلیا

کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں

    لیے ہیں سانس اور باہر رہا ہوں

    دھوئیں میں سانس ہیں سانسوں میں پل ہیں

    میں روشندان تک بس مر رہا ہوں

    فنا ہر دم مجھے گنتی رہی ہے

    میں اک دم کا تھا اور دن بھر رہا ہوں

    ذرا اک سانس روکا تو لگا یوں

    کہ اتنی دیر اپنے گھر رہا ہوں

    بجز اپنے میسر ہے مجھے کیا

    سو خود سے اپنی جیبیں بھر رہا ہوں

    ہمیشہ زخم پہنچے ہیں مجھی کو

    ہمیشہ میں پس لشکر رہا ہوں

    لٹا دے نیند کے بستر پہ اے رات

    میں دن بھر اپنی پلکوں پر رہا ہوں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    کوئی دم بھی میں کب اندر رہا ہوں نعمان شوق

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے