Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

مرزا غالب

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    دلچسپ معلومات

    غالب نے ایک خط میں خود اس مطلع کے سلسلے میں فرمایا ہے ۔ ''ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتا ہے جیسے مشعل دن کو جلانا یا خون آلودہ کپڑا بانس پر لٹکا کر لے جانا'' ۔

    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا

    کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

    کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ

    صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا

    جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے

    سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا

    آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے

    مدعا عنقا ہے اپنے عالم تقریر کا

    بسکہ ہوں غالبؔ اسیری میں بھی آتش زیر پا

    موئے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا

    آتشیں پا ہوں گداز وحشت زنداں نہ پوچھ

    موئے آتش دیدہ ہے ہر حلقہ یاں زنجیر کا

    شوخیٔ نیرنگ صید وحشت طاؤس ہے

    دام سبزہ میں ہے پرواز چمن تسخیر کا

    لذت ایجاد ناز افسون عرض ذوق قتل

    نعل آتش میں ہے تیغ یار سے نخچیر کا

    خشت پشت دست عجز و قالب آغوش وداع

    پر ہوا ہے سیل سے پیمانہ کس تعمیر کا

    وحشت خواب عدم شور تماشا ہے اسدؔ

    جو مزہ جوہر نہیں آئینۂ تعبیر کا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    طلعت محمود

    طلعت محمود

    ذوالفقار علی بخاری

    ذوالفقار علی بخاری

    RECITATIONS

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم,

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل,

    جاوید نسیم

    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا جاوید نسیم

    فصیح اکمل

    نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا فصیح اکمل

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے