Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں

حاتم علی مہر

ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں

حاتم علی مہر

MORE BYحاتم علی مہر

    دلچسپ معلومات

    مرحوم نے مقطع نہیں لکھاہے

    ڈبوئے گی بتو یہ جسم دریا بار پانی میں

    بنے گی موج بھی میرے لیے زنار پانی میں

    غبار دیدہ تر سے تکدر دل کا ظاہر ہے

    تماشہ ہے اٹھی مٹی کی اک دیوار پانی میں

    تن بے جاں میں جاں آئی ہے ابرو کے اشارہ سے

    بجھی تھی چشمۂ حیواں کی یہ تلوار پانی میں

    یہی رونا ہے فرقت میں تو جاں آنکھوں سے نکلے گی

    ہے مرغ آبی اڑنے کے لیے تیار پانی میں

    ہمیں کیا غیر کے کھیتوں پہ جو ابر کرم برسا

    نہ آئی اپنی جانب تو کبھی بوچھار پانی میں

    تڑپتا ہوں میں رو رو کے خیال مصحف رخ میں

    کہ غسل ارتماسی کرتے ہیں دیں دار پانی میں

    مرے رونے پہ وہ ہنستے ہیں تو اغیار جلتے ہیں

    طلسم تازہ ہے بد گل ہوئے فی النار پانی میں

    ہوئے غرق عرق جو شرم عصیاں سے وہ پاک اٹھے

    ہوا کرتے ہیں پیدا گوہر شہوار پانی میں

    نہ ہوگی آبروئے عارضی تو جوہر ذاتی

    پئیں سونے کا پانی بھی اگر زردار پانی میں

    جو تو آئینہ رکھ کر سامنے زیور پہنتا ہے

    تری بالی کی مچھلی تیرتی ہے یار پانی میں

    شراب ناب ہے اک قسم کا پانی ہے اے زاہد

    عبث کیوں ہے تجھے اے نا سمجھ انکار پانی میں

    لطیف‌ الطبع جز راحت نہیں دیتے کبھی ایذا

    نہیں ممکن کہ پیدا ہو چھری کی دھار پانی میں

    بنا دیتے ہیں دم میں سیکڑوں گنبد حبابوں کے

    خدا کی شان رہتے ہیں عجب معمار پانی میں

    موضوعات

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے