Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

آنند نرائن ملا

قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

آنند نرائن ملا

MORE BYآنند نرائن ملا

    قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے

    کیا محبت گناہ ہے پیارے

    دل کو اپنی ہی جلوہ گاہ سمجھ

    آ نظر فرش راہ ہے پیارے

    پھیر لی تو نے جب سے اپنی نظر

    میری دنیا سیاہ ہے پیارے

    شک بھی کس پر مری محبت پر

    جس کا تو خود گواہ ہے پیارے

    تیری معصوم سی نظر کی قسم

    یہی وجہ گناہ ہے پیارے

    دو نگاہیں جہاں پہ مل جائیں

    عشق کی شاہراہ ہے پیارے

    منہ جو سی دیتی تھی شکایت کا

    اب کدھر وہ نگاہ ہے پیارے

    جو بظاہر نہیں مری جانب

    وہ نظر بے پناہ ہے پیارے

    سچ بتا کچھ خفا ہے تو مجھ سے

    یا حیا سد راہ ہے پیارے

    اجنبی بن رہی ہے تیری نظر

    ختم کیا رسم و راہ ہے پیارے

    راہ الفت میں ٹھہرنا کیسا

    دم بھی لینا گناہ ہے پیارے

    دل سی شے اور ناپسند تجھے

    اپنی اپنی نگاہ ہے پیارے

    نیک ارادوں کے سنگ ریزوں پر

    شاہراہ گناہ ہے پیارے

    لب پہ آتی ہے جو ہنسی بن کر

    ایک ایسی بھی آہ ہے پیارے

    عشق میں وہ بھی ایک وقت ہے جب

    بے گناہی گناہ ہے پیارے

    اور ملاؔ کو کیا مٹاتے ہو

    وہ تو یوں ہی تباہ ہے پیارے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    قہر کی کیوں نگاہ ہے پیارے نعمان شوق

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے