aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا

حیدر علی آتش

طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا

حیدر علی آتش

MORE BYحیدر علی آتش

    طرہ اسے جو حسن دل آزار نے کیا

    اندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیا

    گل سے جو سامنا ترے رخسار نے کیا

    مژگاں نے وہ کیا کہ جو کچھ خار نے کیا

    ناز و ادا کو ترک مرے یار نے کیا

    غمزہ نیا یہ ترک ستم گار نے کیا

    افشاں سے کشتہ ابروئے خم دار نے کیا

    جوہر سے کام یار کی تلوار نے کیا

    قامت تری دلیل قیامت کی ہو گئی

    کام آفتاب حشر کا رخسار نے کیا

    میری نگہ کے رشک سے روزن کو جان دی

    رخنہ یہ قصر یار کی دیوار نے کیا

    سودائے زلف میں مجھے آیا خیال رخ

    مشتاق روشنی کا شب تار نے کیا

    حسرت ہی بوسۂ لب شیریں کی رہ گئی

    میٹھا نہ منہ کو تیرے نمک خوار نے کیا

    فرصت ملی نہ گریہ سے اک لحظہ عشق میں

    پانی مرے لہو کو اس آزار نے کیا

    سیماب کی طرح سے شگفتہ ہوا مزاج

    اکسیر مجھ کو میرے خریدار نے کیا

    قد میں تو کر چکا تھا وہ احمق برابری

    مجبور سرو کو تری رفتار نے کیا

    حیرت سے پا بہ گل ہوئے روزن کو دیکھ کر

    دیوار ہم کو یار کی دیوار نے کیا

    پتھر کے آگے سجدہ کیا تو نے برہمن

    کافر تجھے ترے بت پندار نے کیا

    کاوش مژہ نے کی رخ دلبر کی دید میں

    پائے نگاہ سے بھی خلش خار نے کیا

    عاشق کی طرح میں جو لگا کرنے بندگی

    آزاد داغ دے کے خریدار نے کیا

    اعجاز کا عجب لب جاں بخش سے نہیں

    پیغمبر اس کو مصحف رخسار نے کیا

    طرہ کی طرح سے دل عاشق کو پیچ میں

    کس کس لپیٹ سے تری دستار نے کیا

    آنکھوں کو بند کر کے تصور میں باغ کے

    گلشن قفس کو مرغ گرفتار نے کیا

    نالاں ہوا میں اس رخ رنگیں کو دیکھ کر

    بلبل مجھے نظارۂ گل زار نے کیا

    ہکلا کے مجھ سے بات جو اس دل ربا نے کی

    کس حسن سے ادا اسے تکرار نے کیا

    الٹا ادھر نقاب تو پردے پڑے ادھر

    آنکھوں کو بند جلوۂ دیدار نے کیا

    لذت کو ترک کر تو ہو دنیا کا رنج دور

    پرہیز بھی دوا ہے جو بیمار نے کیا

    ناصاف آئینہ ہو تو بد تر ہے سنگ سے

    روشن یہ حال ہم کو جلاکار نے کیا

    حلقہ کی ناف یار کے تعریف کیا کروں

    گول ایسا دائرہ نہیں پرکار نے کیا

    دیوان حسن یار کی آتشؔ جو سیر کی

    دیوانہ بیت ابروئے خم دار نے کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے