رات

MORE BYاسماعیل میرٹھی

    گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات

    خدا نے عجب شے بنائی ہے رات

    نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا

    اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا

    ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے

    خموشی سی چھائی سر شام سے

    لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند

    زمانے کے سب کار بہوار بند

    مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر

    سر شام منزل پہ کھولی کمر

    درختوں کے پتے بھی چپ ہو گئے

    ہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے

    اندھیرا اجالے پہ غالب ہوا

    ہر اک شخص راحت کا طالب ہوا

    ہوئے روشن آبادیوں میں چراغ

    ہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ

    کسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر

    کہ گھر میں کرے چین سے شب بسر

    غریب آدمی جو کہ مزدور ہیں

    مشقت سے جن کے بدن چور ہیں

    وہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے

    وہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے

    نہایت خوشی سے گئے اپنے گھر

    ہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کر

    گئے بھول سب کام دھندھے کا غم

    سویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دم

    کہاں چین یہ بادشہ کو نصیب

    کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب

    مأخذ :
    • کتاب : Bchchaun ke ismail meruthi (Pg. 73)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے