Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پیغام عید

حفیظ بنارسی

پیغام عید

حفیظ بنارسی

MORE BYحفیظ بنارسی

    اپنی آنکھوں میں خمستان مے ناب لیے

    اپنے عارض پہ بہار گل شاداب لیے

    اپنے ماتھے پہ درخشانیٔ مہتاب لئے

    نکہت و رنگ لیے نور کا سیلاب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    زلف بکھری ہے کہ رحمت کی گھٹا چھائی ہے

    جس طرف دیکھیے رعنائی ہی رعنائی ہے

    رہ گزر کاہکشاں بن کے نکھر آئی ہے

    ذرہ ذرہ ہے جمال در خوش آب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    خارزاروں پہ گلستاں کا گماں ہے امروز

    شکوۂ جور کسی لب پہ کہاں ہے امروز

    ملتفت چشم حسینان جہاں ہے امروز

    کتنے تسلیم لیے کتنے ہی آداب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    کس قدر رحمت ساقی ازل عام ہے آج

    رقص پیمانہ لیے گردش ایام ہے آج

    بادۂ کیف سے لبریز ہر اک جام ہے آج

    عشرت روح و سکون دل بے تاب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    دوش گیتی پہ پریشاں ہوئی پھر زلف شمیم

    لڑکھڑاتی ہوئی پھرتی ہے گلستاں میں نسیم

    پھر زمیں بن گئی غیرت دہ گل زار نعیم

    خاک ہے تختۂ گل بستر سنجاب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    زندگی رنج و الم بھول گئی ہے اے دوست

    محفل زیست بصد شوق سجی ہے اے دوست

    عشق بیگانۂ آشفتہ سری ہے اے دوست

    حسن ہے پیرہن اطلس و کمخواب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    درد ہستی کی دوا کر لیں خلوص دل سے

    آؤ اک فرض ادا کر لیں خلوص دل سے

    آؤ تجدید وفا کر لیں خلوص دل سے

    جذبہ و شوق ہم آہنگیٔ احباب لیے

    عید آئی ہے محبت کا نیا باب لیے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Safeer-e-Shahr-e-Dil (Pg. 138)
    • Author : Hafeez Banars
    • مطبع : Educational Publishing House (2007)
    • اشاعت : 2007

    موضوعات

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے