بمل کرشن اشک
غزل 42
نظم 11
اشعار 14
دائرہ کھینچ کے بیٹھا ہوں بڑی مدت سے
خود سے نکلوں تو کسی اور کا رستہ دیکھوں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
تم تو کچھ ایسے بھول گئے ہو جیسے کبھی واقف ہی نہیں تھے
اور جو یوں ہی کرنا تھا صاحب کس لیے اتنا پیار کیا تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اب کے بسنت آئی تو آنکھیں اجڑ گئیں
سرسوں کے کھیت میں کوئی پتہ ہرا نہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
ایسا ہوا کہ گھر سے نہ نکلا تمام دن
جیسے کہ خود سے آج کوئی کام تھا مجھے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اب یہی دکھ ہے ہمیں میں تھی کمی اس میں نہ تھی
اس کو چاہا تھا مگر اپنی طرح چاہا نہ تھا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے