تمام
تعارف
غزل71
نظم8
شعر182
ای-کتاب87
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 21
اقوال26
آڈیو 26
ویڈیو 36
رباعی61
قصہ21
مضمون13
گیلری 6
طنز و مزاح1
بلاگ4
دیگر
ترجمہ11
فراق گورکھپوری
غزل 71
نظم 8
اشعار 182
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اقوال 26
رباعی 61
قصہ 21
مضمون 13
کتاب 87
تصویری شاعری 21
تمہیں کیوں_کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں کسی بدمست کو راز_آشنا سب کا سمجھتے ہیں نگاہ_یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں امیدوں میں بھی ان کی ایک شان_بے_نیازی ہے ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں جہاں کی فطرت_بیگانہ میں جو کیف_غم بھر دیں وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں یہ کہہ کر آبلہ_پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں یہ ہستی نیستی سب موج_خیزی ہے محبت کی نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں فراقؔ اس گردش_ایام سے کب کام نکلا ہے سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں