Added to your favorites
انتظار حسین نے مغربی افسانے کی ہیئت کو مسترد کرتے ہوئے اردو فکشن کو داستان، حکایت اور کتھا کے مشرقی اسلوب سے روشناس کرایا، جس سے کہانی میں سننے سنانے کا لطف دوبارہ پیدا ہوا۔
انتظار حسین نے اپنے دوسرے دور میں انسان کے روحانی زوال، ہوس اور جبلی دباؤ کو تمثیلوں اور دیومالائی علامتوں کے ذریعے پیش کیا، جہاں انسان بندر، کتے یا مکھی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اپنے آخری دور میں انتظار حسین نے بودھ جاتکوں، ہندو دیومالا اور سامی روایات کو ملا کر بقائے انسانی اور کائناتی سچائیوں کو ایک نئی آفاقی جہت عطا کی۔
منٹو نے اردو افسانے میں ایک نئی راہ متعین کی اور قاری کو چونکا کر معاشرے کی مردہ ضمیری کو جھنجھوڑنے کا فریضہ انجام دیا۔
عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں متوسط مسلم گھرانوں کی جنسی اور نفسیاتی گھٹن کو بے باکی سے پیش کیا اور فرسودہ روایات کے بوسیدہ نظام کو بے نقاب کیا۔
Subscribe to Rekhta Newsletter to get all the latest updates