ادبی تنقید میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ جو شاعری تاریخ کی کسی مخصوص لہر یا سیاسی تحریک کے زیرِ اثر پیدا ہوتی ہے، کیا وہ وقت گزرنے کے ساتھ 'وقتی' (Dated) ہو جاتی ہے؟ ہنگامی اور وطنی شاعری کا ایک بڑا حصہ طاقِ نسیاں کی نذر اس لیے ہو جاتا ہے کہ اس میں فنکارانہ جوہر کی کمی ہوتی ہے۔ اگر کوئی فن پارہ صرف موضوع یا سیاسی نعرے کے زور پر زندہ رہنے کا دعویٰ کرے، تو وقت کی دیمک اسے چاٹ لیتی ہے۔ تو پھر فیض احمد فیض کی شاعری کا مستقبل کیا ہے؟
اس سوال کا جواب فیض کے اس بے مثال فنی کمال میں پوشیدہ ہے جسے 'تخلیقی تقلیب' (Creative Transformation) کہا جاتا ہے۔ فیض نے خالص تاریخی اور سیاسی سانحوں کو جذبات کاری کے ذریعے انتہائی ارفع اور ہمہ گیر جمالیاتی احساس میں ڈھال دیا۔ ان کے یہاں تاریخی شعور یا انقلابی فکر کوئی محدود چیز نہیں، بلکہ یہ جمالیاتی اظہار کی راہ پا کر ایک آفاقی انسانی کیفیت بن جاتی ہے۔
اس کی ایک روشن مثال ان کی غزل نما نظم 'ڈھاکہ سے واپسی پر' ہے، جو سقوطِ ڈھاکہ کے پس منظر میں لکھی گئی:
اس عنوان کی بدولت اس غزل کا تاریخی تناظر ذہن پرثبت ہو جاتا ہے۔
ہم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی ملاقاتوں کے بعد
پھر بنیں گے آشنا کتنی مداراتوں کے بعد
کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد
اگر اس غزل کا عنوان ہٹا دیا جائے، تو یہ خالص تغزل کا رنگ لیے معلوم ہوتی ہے جس میں ہجر، شکستِ دل، اور گلے شکووں کا ذکر ہے۔ لیکن عنوان کے ساتھ ہی یہ اشعار تاریخ کے محور پر سانس لینے لگتے ہیں۔ 'خون کے دھبے' اور 'بے داغ سبزے کی بہار' جیسے استعارے بیک وقت ایک محبوب سے بچھڑنے کا غم بھی ہیں اور ایک قوم کے ٹوٹنے کا نوحہ بھی۔
فیض کی کامیابی کا سب سے بڑا راز یہ ہے کہ ان کے یہاں عاشقانہ سطح محض عاشقانہ نہیں، اور انقلابی سطح محض انقلابی نہیں۔ ذہن اور شعور بیک وقت دونوں سطحوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
فیض باغی شاعر ضرور ہیں، لیکن وہ رجز خوانی نہیں کرتے۔ ان کا لہجہ غنائی (Lyrical) ہے اور ان کا دل دردِ محبت سے چور ہے۔ انہوں نے جمالیاتی احساس کو انقلابی فکر پر قربان نہیں کیا، اور نہ ہی انقلاب کو جمالیات پر۔ ان کے سوزِ دروں میں سب ہنگامی آلائشیں پگھل جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کی شاعری کا وہ حصہ جس میں خونِ جگر کی آمیزش اور فنی اخلاص کی مہر ہے، وقت گزرنے کے ساتھ دھندلانے کے بجائے مزید روشن اور تابندہ ہوتا جائے گا۔
