Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آدھے چہرے

ممتاز مفتی

آدھے چہرے

ممتاز مفتی

MORE BYممتاز مفتی

    کہانی کی کہانی

    کہانی ایک ایسے نوجوان کے گرد گھومتی ہے جو مس آئیڈینٹٹی کا شکار ہے۔ ایک دن وہ ایک ڈاکٹر کے پاس آتا ہے اور اسے اپنی حالت بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ جب وہ محلے میں ہوتا ہے تو حمید ہوتا ہے۔ مگر جب وہ کالج میں جاتا ہے تو اختر ہو جاتا ہے۔ اپنی یہ کیفیت اسے کبھی پتہ نہ چلتی اگر بیتے دنوں ایک حادثہ نہ ہوتا۔ تبھی سے اس کی سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ وہ کون ہے؟ وہ ڈاکٹر سے سوال کرتا ہے کہ وہ اسے بتائے کہ وہ حقیقت میں کیا ہے؟

    ’’میں سمجھتا ہوں کہ آج کی دنیا میں سب سے اہم مسئلہ ایموشنل سٹریس اور سٹرین کا ہے۔‘‘ اسلم نے کہا، ’’اگر ہم ایموشنل سٹریس کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بہت سی کمپلی کیشنز سے نجات مل سکتی ہے۔‘‘

    ’’آپ کا مطلب ہے ٹرانکولائزر قسم کی چیز۔‘‘ رشید نے پوچھا۔

    ’’نہیں نہیں۔‘‘ اسلم نے کہا، ’’ٹرانکولائزر نے مزید پیچیدگیاں پیدا کر رکھی ہیں۔ ایلوپیتھی نے جو مرض کو دبا دینے کی رسم پیدا کی ہے، اس سے امراض میں اضافہ ہو گیا ہے اور صرف اضافہ ہی نہیں اس سپریشن کی وجہ سے مرض نے کیموفلاج کرنا سیکھ لیا ہے۔ لہذا مرض بھیس بدل بدل کر خود کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی وجہ سے اس میں اسرار کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔ تشخیص کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کیوں طاؤس۔ تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ اسلم نے پوچھا۔

    ’’میں تو صرف ایک بات جانتا ہوں۔‘‘ طاؤس بولا، ’’ہمارا طریق علاج یعنی ہومیوپیتھی یقیناً روحانی طریقہ علاج ہے۔ ہماری ادویات مادے کی نہیں بلکہ انرجی کی صورت میں ہوتی ہیں۔ جتنی دوا کم ہو، اس میں اتنی ہی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔‘‘

    ’’وہ تو ہے۔‘‘ عظیم نے کہا، ’’یقیناً یہ طریق علاج اپنی نوعیت میں روحانی ہے لیکن ہمارے پریکسٹنگ ہومیو پیتھس کا نقطہ نظر ابھی مادیت سے نہیں نکل سکا۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔‘‘

    ’’ڈاکٹر صاحبان۔‘‘ رشید ہنس کر بولا، ’’آپ لاکھ کوشش کریں لیکن ایلوپیتھی کو ریپلیس نہیں کر سکتے۔‘‘

    ’’وہ کیوں ؟‘‘ حامد نے پوچھا۔

    ’’سیدھی بات ہے۔ رشید نے جواب دیا، ’’آج کل مریض کیور نہیں چاہتا۔ وہ صرف ریلیف چاہتا ہے۔ کیور کے لئے صبر چاہئے۔ استقلال چاہئے۔ آج کل لوگوں کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ کیور کا انتظار کریں۔ بس ایک گولی ہو، ایک ٹیکہ لگے اور شام کو انٹرکان کی محفل میں شو آف کا موقع ہاتھ سے نہ جائے۔‘‘

    ’’سچ کہتے ہو بھائی۔‘‘ حامد نے آہ بھری۔

    ’’اسلم صاحب۔‘‘ طاؤس نے کہا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ آج کے دور کا سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی آئیڈنٹیٹی کھو چکے ہیں۔ ماڈرن ایج کی یہ ایک ڈیزیز ہے۔ کینٹجٹس ڈیزیز۔‘‘

    ’’میں سمجھا نہیں۔‘‘ حامد بولا۔

    ’’میرا مطلب ہے آج کل کے نوجوانوں کو پتہ نہیں کہ وہ کون ہیں۔ پتہ نہیں ، وہ چاہتے کیا ہیں۔ موومنٹ کے دیوانے تو ہیں۔ چلتے رہنے کا بھوت سوار ہے۔ لیکن انہیں پتہ نہیں کہ ہم کیوں چل رہے ہیں۔ ہمیں کہاں پہنچنا ہے۔ ہمارے نوجوان میڈ کراؤڈ کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اندر کے فرد کو دبا رکھا ہے۔ بالکل ایسے جیسے اینٹی بایوٹکس اندر کی بیماری کو دبا دیتے ہیں۔ وہ اکیلے ہونے سے ڈرتے ہیں۔‘‘ طاؤس نے ایک لمبی آہ بھری اور گویا اپنے آپ سے بولا، ’’کاش کہ میں کوئی ایسی دوا بنانے میں کامیاب ہو سکتا جو اندر کے فرد کو ریلیز کر سکتی۔ میڈ کراؤڈ کی نفی کر سکتی۔‘‘

    ’’ہوں۔ دلچسپ بات ہے۔‘‘ عظیم نے سوچتے ہوئے کہا، ’’آپ کو اس کا خیال کیسے آیا؟‘‘ حامد نے طاؤس سے پوچھا۔

    ’’دو سال ہوئے۔‘‘ طاؤس کہنے لگا، ’’جب میں نے پریکٹس شروع کی تو پہلا مریض جو میرے پاس آیا اس نے مجھ سے پوچھا تھا، ڈاکٹر صاحب یہ بتایئے کہ میں کون ہوں ؟‘‘

    ’’عجیب بات ہے۔‘‘ رشید زیر لب بولا۔

    ’’اور وہ مریض مکمل ہوش و حواس میں تھا کیا؟‘‘ اسلم نے پوچھا۔

    ’’بالکل۔‘‘ طاؤس نے جواب دیا۔

    ’’شاید ڈس بیلنسڈ ہو۔‘‘ عظیم نے گویا اپنے آپ سے پوچھا۔

    ’’بظاہر تو نہیں لگتا تھا۔‘‘ طاؤس نے جواب دیا۔

    ’’حیرت کی بات ہے۔‘‘ رشید نے دہرایا۔ اس وقت یہ سب لوگ رشید کے مکان سے ملحقہ لان میں بیٹھے تھے۔

    دراصل رشید ہومیوپیتھی کا بہت دلدادہ تھا۔ ہومیوپیتھ ڈاکٹروں سے اس کے بڑے مراسم تھے۔

    اس روز اس نے چار ہومیوپیتھ ڈاکٹروں کو اپنے گھر پر مدعو کر رکھا تھا۔ غالباً کوئی تقریب تھی یا ویسے ہی۔

    رشید خود ہومیوپیتھ نہیں تھا لیکن اسے ہومیوپیتھی کے کیسز کا بڑا شوق تھا۔ بہرحال کھانا کھانے کے بعد وہ سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے سبز چائے پی رہے تھے کہ دور حاضرہ کی بات چل نکل تھی۔طاؤس کے اس کیس پر ڈاکٹر تو نہیں البتہ رشید بہت متاثر ہوا۔ اس کے اصرار پر طاؤس نے انہیں اس نوجوان کا واقعہ سنایا۔ طاؤس نے بات شروع کی۔

    ’’ان دنوں میں نے نیا نیا معمل کھولا تھا اور معمل بھی کیا۔ میں نے گھر کے ایک کمرے پر بورڈ لگایا تھا اور وہاں چند ایک ضروری کتابیں اور دوائیں رکھ لی تھیں۔ شام کا وقت تھا۔ میں اپنے معمل میں بیٹھا ایک رسالے کا مطالعہ کر رہا تھا کہ دروازے پر ٹک ٹک کی آواز آئی۔ دیکھا تو دروازے پر ایک خوش پوش نوجوان کھڑا ہے، ’’میں اندر آ سکتا ہوں ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’تشریف لایئے۔‘‘ میں نے رسالہ ایک طرف رکھا، ’’بیٹھئے۔‘‘

    ’’آپ ہومیوپیتھ ہیں کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔

    ’’جی۔‘‘ میں نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔ اس کی شکل و شباہت ایک پریکٹیکل نوجوان جیسی تھی۔ سمارٹ، ذہین، مضطرب، شوخ، لا ابالی، چمکتی آنکھیں ، چوڑا منہ، لٹکتی مونچھیں اور سر پر بالوں کا ٹوکرا۔

    ’’دراصل میں آپ سے ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔‘‘ نوجوان نے کہا۔

    ’’پوچھئے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ غالباً اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیسے بات شروع کرے۔ پھر وہ ایک دم کہنے لگا، ’’میری ایک پرابلم ہے۔ جناب میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا میں حمید ہوں یا اختر ہوں۔‘‘ طاؤس رک گیا۔ حاضرین حیرت سے طاؤس کی طرف دیکھنے لگے۔

    ’’ہاں ہاں!‘‘ یہ کیا بات ہوئی۔ رشید بے صبرا ہو رہا تھا، ’’یہ کیا بات ہوئی بھلا میں حمید ہوں یا اختر۔‘‘

    طاؤس نے بات شروع کی۔ بولا، ’’نوجوان کی بات سن کر میں گھبرا گیا۔ سمجھا شاید اس کا ذہن گڈمڈ ہے لیکن میں نے اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔ پھر نوجوان خود ہی بولا، ’’آئی ایم ناٹ اے مینٹل کیس سر۔ میرا ذہن بالکل ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر دراصل مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیسے بات کروں؟‘‘

    ’’یہ بتایئے کہ حمید کون ہے، اختر کون ہے۔‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’میں ہوں۔ میں حمید بھی ہوں اختر بھی۔ میرا نام حمید اختر ہے۔‘‘ اس نے کہا۔

    ’’تو کیا حمید اختر ایک ہی فرد کا نام ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

    ’’جی۔ ایک ہی فرد کا۔‘‘ اس نے جواب دیا۔

    ’’پھر آپ نے یہ کیوں پوچھا کہ میں حمید ہوں یا اختر؟‘‘

    ’’میں نے بالکل ٹھیک پوچھا۔ ڈاکٹر یہی میری پرابلم ہے۔ لیکن میں اپنی پرابلم کسی کو بھی نہیں سمجھا سکتا۔ میں اس امید پر یہاں آیا تھا کہ شاید ہومیوپیتھی میں کوئی ایسی دوا ہو جو میری پرابلم کو حل کر سکے۔ لیکن اٹس نو یوز۔‘‘ وہ جانے کے لئے مڑا، ’’معاف کیجئے۔ میں نے آپ کا وقت ضائع کیا۔‘‘

    ’’ذرا ٹھہریئے تو۔‘‘ میں نے اٹھ کر اس کا بازو پکڑ لیا۔

    ’’فائدہ؟‘‘ وہ بولا، ’’جب میں اپنی پرابلم پیش ہی نہیں کر سکتا تو۔۔۔‘‘

    ’’گولی ماریےپرابلم کو۔‘‘ میں نے کہا، ’’آیئے اکٹھے بیٹھ کر چائے کا پیالہ پیتے ہیں۔ دنیا میں سب سے عمدہ دوا اکٹھے بیٹھ کر باتیں کرنا ہے۔‘‘

    ’’لیکن آپ کا وقت۔‘‘ اس نے کہا۔

    ’’بے فکر رہیئے۔ میں بالکل فارغ ہوں۔ احمد دین۔۔۔‘‘ میں نے با آواز بلند اپنے ملازم کو پکارا، ’’بھئی چائے لے آؤ۔‘‘ اس پر وہ نوجوان رک گیا۔

    ’’بیٹھئے نا۔‘‘ میں نے نوجوان کو صوفے پر بٹھا دیا، ’’دیکھئے موسم کتنا خوشگوار ہے اور یہاں سے پہاڑوں کا منظر کتنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ میں نے اس سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔ دیر تک بیٹھے ہم دونوں چائے پیتے رہے۔ اس دوران میں دو ایک مرتبہ اس نے اپنی پرابلم کی بات شروع کرنے کی پھر سے کوشش کی۔ آخر میں نے اس سے کہا، ’’حمید صاحب۔ آپ اپنی پرابلم پیش نہ کریں بلکہ اپنی آپ بیتی سنائیں۔ آپ کی پرابلم آپ ہی آپ باہر نکل آئے گی۔‘‘

    بات اس کی سمجھ میں آ گئی اور اس نے مجھے اپنی کہانی سنانی شروع کر دی۔ کہنے لگا، ’’ڈاکٹر صاحب! میرا نام حمید اختر ہے لیکن گھر میں مجھے سب حمید کہتے ہیں۔ ہم شہر کے پرانے حصے کوچہ قاضیاں میں رہتے ہیں۔ میرے آباؤ اجداد نہ جانے کب سے اس محلے میں رہتے ہیں۔ یہ محلہ ایک کوچہ بند محلہ ہے۔ میرا مطلب ہے چاروں طرف سے بند ہے۔ اندر جانے کے لئے ایک بہت بڑی ڈیوڑھی بنی ہوئی ہے۔ جانے کا اور کوئی راستہ نہیں۔ محلے میں صرف قاضی آباد ہیں جو ایک دوسرے کے عزیز یا رشتہ دار ہیں۔‘‘ وہ رک گیا اور کچھ دیر توقف کے بعد بولا،

    ’’آپ چونکہ شہر کے جدید حصے میں رہتے ہیں ، آپ نہیں سمجھ سکیں گے کہ محلے میں رہنے کا مطلب کیا ہے۔ محلے کا ہر شخص دوسرے شخص کو جانتا ہے۔ جونہی آپ محلے میں داخل ہوتے ہیں ، لوگوں کی نظریں آپ پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ بولتا کس طرح ہے۔ سر اٹھا کر یا نیچا کر کے لڑکیوں کی طرف کن نگاہوں سے دیکھتا ہے۔ ہم لوگ جو پشتوں سے محلے میں رہتے آئے ہیں ، محلہ ہماری ہڈیوں میں رچ بس گیا ہے۔ جونہی ہم محلے میں داخل ہوتے ہیں ، اپنے آپ آنکھیں جھک جاتی ہیں۔ گفتگو میں شوخی ختم ہو جاتی ہے۔ اندر کا غنڈہ پن دھل جاتا ہے۔ لڑکیاں نگاہ میں لڑکیاں نہیں رہتیں۔ بڑوں کے لئے ادب و احترام کا ایک خول چڑھ جاتا ہے۔

    اگرچہ اب محلے میں بڑی تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں۔ برقعے اتر گیے ہیں۔ لباس بدل گیے ہیں۔ کاریں آ گئی ہیں۔ ڈرائنگ روم سج گئے ہیں لیکن محلے والوں کا رخ نہیں بدلا۔ اگر بدلا بھی ہے تو یہ تبدیلی باہر تک محدود ہے۔ محلے میں داخل ہوتے ہی کایا پلٹ جاتی ہے۔ کسی مجبوری کی وجہ سے نہیں ، ویسے ہی بے اختیاری طور پر۔ ہاں میں اس محلے میں پلا ہوں ڈاکٹر صاحب۔ سمجھے آپ اور مجھے اپنی ماں سے محبت ہے۔ نہیں محبت نہیں۔ عشق ہے عشق۔ میری ماں نے جتنی محبت مجھے دی ہے، اس کی مثال مشکل ہی سے ملے گی۔ میں اپنی ماں کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دے سکتا ہوں ڈاکٹر۔‘‘

    ماں کا تذکرہ کرتے ہوئے وہ جذباتی ہو گیا۔ طاؤس ایک ساعت کے لیے رک گیا۔ پھر بولا۔۔۔

    ’’آپ کا باپ؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔

    ’’اب تو میرا باپ ایک اچھی خاصی نوکری پر ہے۔ پہلے وہ ایک معمولی عہدے پر کام کرتے تھے۔ آج کل تو ہمارا گھر ایک اچھا خاصا مڈل کلاس گھرانا ہے۔ اچھا گزارہ ہو رہا ہے۔ پہلے یہ بات نہ تھی۔ بہت مشکل سے پورا ہوتا تھا۔ پھر ہم پر ایک مصیبت نازل ہو گئی۔ ابا بیمار پڑ گئے۔ وہ ایک عجیب سی بیماری تھی۔ انہیں ریڑھ کی ہڈی میں شدت کا درد اٹھتا تھا۔ ہم نے انہیں ہسپتال میں داخل کرا دیا۔ ہسپتال والوں نے انہیں درد سے بچانے کے لئے نشے والے ٹیکے لگانے شروع کر دیئے۔ دو سال بعد وہ صحت مند ہو کر گھر آئے تو ان ٹیکوں کے عادی ہو چکے تھے۔ ایڈکٹ ہونے کی وجہ سے ان کی نوکری چھوٹ گئی۔ بد مزاجی حد سے بڑھ گئی۔ جیسے کہ ہر اس ڈرگ ایڈکٹ کی ہوتی ہے جس کے پاس نشہ پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے۔

    اف۔ وہ چار سال ہم پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی۔ ہماری ہڈیاں توڑ دیں۔ امی، چھوٹی بہن اور میں پس کر رہ گئے۔ ہم تینوں نے مزدوروں کی طرح کام کیا۔ ریڈی میڈ کپڑے سیئے۔ بیچے۔ دیسی نائیوں کی سپلائی کرنے کے لئے فیس کریمیں بنائیں۔ تھیلے سیئے۔ سیلوفین کے لفافے بنائے۔ ان دنوں ہمیں کئی کئی روز فاقے آئے لیکن امی نے ابا کے علاج اور ہماری تعلیم کو ہر قیمت پر جاری رکھا۔ اگر امی نہ ہوتیں تو گھر کے پرخچے اڑ جاتے۔ امی ایک بہت بڑی عورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب۔۔اس نے ہم سب کا حوصلہ بندھائے رکھا۔ ہم میں مصیبتیں سہنے کی ہمت پیدا کی۔ ابا کی دیوانگی برداشت کی۔ خیر وہ دن بیت گیے۔ ابا کی وہ عادت چھوٹ گئی اور پھر انہیں پہلے سے بہتر ملازمت مل گئی۔ اسی لیے ہم خاصے خوشحال ہو گیے ہیں۔

    گھر میں مجھے سب حمید کہتے ہیں ڈاکٹر صاحب۔ کبھی کسی نے اختر کہہ کر نہیں بلایا۔ محلے میں سب حمید کے نام سے بلاتے ہیں۔ جب کوئی حمید کے نام سے بلاتا ہے تو آواز میرے کانوں میں داخل ہو کر سیدھی دل میں