Rasa Chughtai's Photo'

رسا چغتائی

1928 - 2018 | کراچی, پاکستان

رسا چغتائی

غزل 37

اشعار 34

تجھ سے ملنے کو بے قرار تھا دل

تجھ سے مل کر بھی بے قرار رہا

ان جھیل سی گہری آنکھوں میں

اک لہر سی ہر دم رہتی ہے

جن آنکھوں سے مجھے تم دیکھتے ہو

میں ان آنکھوں سے دنیا دیکھتا ہوں

عشق میں بھی سیاستیں نکلیں

قربتوں میں بھی فاصلہ نکلا

  • شیئر کیجیے

اس گھر کی ساری دیواریں شیشے کی ہیں

لیکن اس گھر کا مالک خود اک پتھر ہے

  • شیئر کیجیے

کتاب 3

 

تصویری شاعری 4

 

ویڈیو 19

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

رسا چغتائی

رسا چغتائی

رسا چغتائی

رسا چغتائی

رسا چغتائی

رسا چغتائی

Reciting own poetry

رسا چغتائی

سر اٹھایا تو سر رہے_گا کیا

رسا چغتائی

جب بھی تیری یادوں کا سلسلہ سا چلتا ہے

رسا چغتائی

خواب اس کے ہیں جو چرا لے جائے

رسا چغتائی

سر اٹھایا تو سر رہے_گا کیا

رسا چغتائی

محبت خبط ہے یا وسوسہ ہے

رسا چغتائی

میرؔ_جی سے اگر ارادت ہے

رسا چغتائی

میں نے سوچا تھا اس اجنبی شہر میں زندگی چلتے_پھرتے گزر جائے_گی

رسا چغتائی

نکل کر سایۂ_ابر_رواں سے

رسا چغتائی

کہاں جاتے ہیں آگے شہر_جاں سے

رسا چغتائی

ہے لیکن اجنبی ایسا نہیں ہے

رسا چغتائی

آڈیو 10

اپنی بے_چہرگی میں پتھر تھا

اس سے پہلے نظر نہیں آیا (ردیف .. ے)

ترے نزدیک آ کر سوچتا ہوں

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

متعلقہ شعرا

"کراچی" کے مزید شعرا

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے