- کتاب فہرست 180657
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
ڈرامہ915 تعلیم341 مضامين و خاكه1362 قصہ / داستان1568 صحت104 تاریخ3280طنز و مزاح597 صحافت200 زبان و ادب1691 خطوط733
طرز زندگی30 طب972 تحریکات269 ناول4268 سیاسی350 مذہبیات4764 تحقیق و تنقید6503افسانہ2662 خاکے/ قلمی چہرے233 سماجی مسائل109 تصوف2009نصابی کتاب433 ترجمہ4211خواتین کی تحریریں5765-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1253
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح181
- گیت63
- غزل1258
- ہائیکو11
- حمد56
- مزاحیہ31
- انتخاب1572
- کہہ مکرنی6
- کلیات568
- ماہیہ20
- مجموعہ4857
- مرثیہ387
- مثنوی737
- مسدس44
- نعت586
- نظم1205
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ178
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی25
- ترجمہ74
- واسوخت24
ابوالکلام آزاد
مضمون 4
اشعار 2
بے خود بھی ہیں ہشیار بھی ہیں دیکھنے والے
ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
کوئی نالاں کوئی گریاں کوئی بسمل ہو گیا
اس کے اٹھتے ہی دگرگوں رنگ محفل ہو گیا
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
غزل 3
کتاب 452
تصویری شاعری 1
ان شوخ حسینوں کی ادا اور ہی کچھ ہے اور ان کی اداؤں میں مزا اور ہی کچھ ہے یہ دل ہے مگر دل میں بسا اور ہی کچھ ہے دل آئینہ ہے جلوہ_نما اور ہی کچھ ہے ہم آپ کی محفل میں نہ آنے کو نہ آتے کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے بے_خود بھی ہیں ہوشیار بھی ہیں دیکھنے والے ان مست نگاہوں کی ادا اور ہی کچھ ہے آزادؔ ہوں اور گیسوئے_پیچاں میں گرفتار کہہ دو مجھے کیا تم نے سنا اور ہی کچھ ہے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں91
ادب اطفال1979
-
