Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Faiz Jhanjhanvi's Photo'

فیض جھنجھانوی

1910 - 1981 | فیصل آباد, پاکستان

فیض جھنجھانوی

اشعار 17

تو بحر عشق میں دل کو ہم آغوش تلاطم رکھ

یہ وہ موتی ہے جو پروردۂ ساحل نہیں ہوتا

وہ اگر شعلہ زن دل ہوں تو حسن التفات

دل اگر شکوہ کن سوز دروں ہو ننگ ہے

آؤ غم پرسش کیا میں شکوے سے باز آیا

تم چار قدم پیچھے کیوں ہو صف محشر سے

سر جمشید کو خشت خم صہبا سے ٹکرا دیں

گدائے مے کدہ بھی کس قدر مغرور ہوتے ہیں

لے کر انگڑائی اٹھی جب نگہ حسن طلب

ذرے ذرے میں انہیں انجمن آرا دیکھا

غزل 17

کتاب 2

 

"فیصل آباد" کے مزید مصنفین

Recitation

بولیے