- کتاب فہرست 178107
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
ڈرامہ918 تعلیم343 مضامين و خاكه1375 قصہ / داستان1578 صحت105 تاریخ3275طنز و مزاح607 صحافت201 زبان و ادب1707 خطوط736
طرز زندگی30 طب976 تحریکات272 ناول4285 سیاسی354 مذہبیات4729 تحقیق و تنقید6590افسانہ2686 خاکے/ قلمی چہرے242 سماجی مسائل109 تصوف2032نصابی کتاب450 ترجمہ4242خواتین کی تحریریں5862-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1277
- دوہا48
- رزمیہ100
- شرح180
- گیت63
- غزل1254
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ31
- انتخاب1596
- کہہ مکرنی7
- کلیات581
- ماہیہ20
- مجموعہ4836
- مرثیہ386
- مثنوی747
- مسدس41
- نعت575
- نظم1189
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ67
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
حیات اللہ انصاری کے افسانے
ماں بیٹا
’’مذہبی انتہا پسندی سے پریشان ایک ہندو بیٹے اور مسلمان ماں کی کہانی۔ وہ دونوں بالکل الگ تھے۔ الگ ماحول، معاشرہ اور ایک دوسرے کے مذہب سے سخت نفرت کرنے والے۔ مگر ان کے اجڑنے کی کہانی ایک جیسی تھی۔ پھر اتفاق سے جب وہ ملے اور ایک دوسرے کی کہانی سنی تو ان کی سوچ پوری طرح سے بدل گئی۔‘‘
آخری کوشش
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جس نے بہتر زندگی کی تلاش میں اپنی زندگی کے 25 سال کولکاتہ میں گزار دیے۔ مگر حاصل کچھ نہیں کر سکا۔ جیسا وہ 25 سال پہلے شہر سے گیا تھا ویسا ہی واپس لوٹ آتا ہے۔ گاؤں میں بھی اس کے سامنے بدحالی اور غریبی منھ پھاڑے کھڑی رہتی ہے۔ گھر کے حالات کو لے کر اکئی بار س کا اپنے چھوٹے بھائی سے جھگڑا بھی ہوتا ہے۔ پھر دونوں بھائی مل کر ایک نیا کام شروع کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں۔
ڈھائی سیر آٹا
’’یہ ایک مزدور کی کہانی ہے، جو بہت مشکل سے اپنی کنبے کا پیٹ بھر پاتا ہے۔ ایک روز کام سے لوٹتے ہوئے اسے سڑک پر ڈھائی سیر آٹا پڑا ہوا مل جاتا ہے۔ وہ آٹے کو سمیٹتا ہے اور گھر لے آتا ہے۔ اس آٹے کی بھی اپنی ہی کہانی ہوتی ہے۔ وہ آٹا ایک مدت بعد اس کے اور اس کے بچوں کے چہرے پر خوشی اور راحت کا احساس دلا تا ہے۔‘‘
بھیک
’’ایک ایسے شخص کی کہانی، جو پہاڑوں پر سیر کرنے کے لیے گیا ہے۔ وہاں اسے ایک غریب لڑکی ملتی ہے، جسے وہ اپنے یہاں نوکری کرنے کا آفر دیتا ہے۔ مگر اگلے دن امید سے لبریز جب وہ لڑکی اپنے چھوٹے بھائی بہنوں کے ساتھ ڈاک بنگلے پر پہنچتی ہے تو ایک ساتھ اتنے بچوں کو دیکھ کر وہ اسے نوکری پر رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ انکار سن کر لڑکی جب واپس جانے لگتی ہے تو وہ اسے دو روپیے دے دیتا ہے۔‘‘
شکر گزار آنکھیں
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو فسادیوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل ہوتا ہے، جو ایک ٹرین کو گھیر کر روک لیتا ہے۔ گروہ ٹرین میں بیٹھے مسلمانوں کو اتار لیتا ہے۔ ان میں ایک نوبیاہتا جوڑا بھی ہوتا ہے۔ وہ شخص نوبیاہتا جوڑے میں دولہے کو مار دیتا ہے اور پھر دلہن کی التجا پر اسے بھی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔ مگر مرتے وقت دلہن کی آنکھوں میں کچھ ایسا جذبہ تھا جسے وہ ساری زندگی کبھی بھلا نہیں پایا۔
بھرے بازار میں
کوئی چیز رکھی کے پیٹ پر پھد سے گری۔ رکھی کنمنائی اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کرنے لگی۔ پھر ایک زیادہ وزنی چیز آکر چھاتی پر گری اور ساتھ ہی ایک قہقہہ سنائی دیا۔ اب رکھی کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے گلی کے نکڑ پر کلو کو دیکھا جس نے رکھی سے آنکھیں ملاتے ہی
اندھیرا اجالا
یہ ایک جیب کترے کی کہانی ہے، جو اپنے کام میں جتنا پرفیکٹ ہے خاندان کے معاملے میں اتنا ہی ناکام۔ اس کی بیٹی ایک دوسرے جیب کترے کے بیٹے کے ساتھ بھاگ جاتی ہے اور بیٹا بھی ایک دوسرے جیب کترے کے ساتھ ایک نازیبا حالت میں پولس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔
بے حد معمولی
’’نسلی برتری پر یقین کرنے والے ایک ایسے شخص کی کہانی، جس کی بیوی ایک بھکارن کے بچوں کو پالنے کے لیے گھر لے آتی ہے۔ پروفیسر دارا مرزا کا یقین ہے کہ عظیم شخصیتیں صرف برتر نسلوں میں ہی پیدا ہوتی ہیں۔ وہیں ان کی بیوی کا ماننا ہے کہ کسی کی عظمت یا کامیابی کی سرا اس کی نسل میں نہیں، پرورش میں ہوتی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1985
-
