- کتاب فہرست 179717
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
ڈرامہ928 تعلیم345 مضامين و خاكه1393 قصہ / داستان1604 صحت105 تاریخ3316طنز و مزاح613 صحافت202 زبان و ادب1727 خطوط747
طرز زندگی30 طب976 تحریکات277 ناول4313 سیاسی355 مذہبیات4765 تحقیق و تنقید6667افسانہ2704 خاکے/ قلمی چہرے249 سماجی مسائل111 تصوف2056نصابی کتاب466 ترجمہ4304خواتین کی تحریریں5896-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1305
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح182
- گیت64
- غزل1259
- ہائیکو12
- حمد50
- مزاحیہ33
- انتخاب1612
- کہہ مکرنی7
- کلیات585
- ماہیہ20
- مجموعہ4865
- مرثیہ389
- مثنوی774
- مسدس41
- نعت578
- نظم1194
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ186
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی275
- مخمس16
- ریختی12
- باقیات17
- سلام32
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ18
- تاریخ گوئی27
- ترجمہ68
- واسوخت26
محمد مجیب کے افسانے
اندھیرا
ایسے دو لوگوں کی کہانی جو دن بھر شہر میں کام کرنے کے بعد شام ڈھلے اپنے گاؤں کو لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ راستے میں چلتے ہوئے جیسے جیسے اندھیرا بڑھتا جاتا ہے ان میں سے ایک کو ڈر لگنے لگتا ہے۔ ڈر سے بچنے کے لیے وہ اپنے ساتھی سے بات چیت شروع کرتا ہے اور اس کا ساتھی اس کا حوصلہ بڑھانے کے لیے ایک ایسی کہانی سناتا ہے جو ڈر سے جڑی ہوتی ہے۔
باغی
’’یہ کہانی ایک ریلوے اسٹیشن، اس کےاسٹیشن ماسٹر اور ٹکٹ بابو کے گرد گھومتی ہے۔ اسٹیشن ماسٹر کا ماننا ہے کہ پورے ہندوستان میں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ بہت کم لوگ ہی اس رشتہ کو دیکھ پاتے ہیں اور اس کی قدر کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ اس رشتہ سے انکار کرتے ہیں وہ باغی ہیں۔ اسٹیشن ماسٹر کے مطابق ان رشتوں کو جوڑے رکھنے میں آم کے باغ اہم رول نبھاتے ہیں۔ اگر کہیں آم کے باغ نہیں ہیں تو وہ علاقہ اور وہاں کے لوگ سرے سے ہندوستانی ہی نہیں ہے۔ کسی بھی شخص کو ہندستانی ہونے کے لیے یہاں کی تہذیب میں آم کے باغ کی اہمیت کو سمجھنا ہی ہوگا۔‘‘
خاں صاحب
’’کہانی ایک ایسے شخص کے گرد گھومتی ہے، جو بہت دین دار ہے۔ مگر اتنا کنجوس ہے کہ اس کی بیوی بیٹی بہت مفلسی میں گزارا کرتی ہیں۔ اس کی بیوی بیٹی کو اچھی پرورش کے لیے ایک عورت کے پاس چھوڑ دیتی ہے، تو بدلے میں وہ اس عورت سے پیسے بھی مانگتا ہے۔ عورت پیسے تو نہیں دیتی، ہاں ایک پڑھے لکھے لڑکے سے اس کا رشتہ طے کر دیتی ہے۔ مگر کم مہر اور نقد نہ ملنے کی وجہ سے وہ دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی ایک امیر اور ادھیڑ عمر کے شخص سے کرا دیتا ہے۔‘‘
کیمیا گر
یہ ترکی سے ہندوستان میں آ بسے ایک حکیم کی کہانی ہے، جو اپنے پورے خلوص اور اچھے اخلاق کے باوجود بھی یہاں کہ مٹی میں گھل مل نہیں پاتا۔ گاؤں کی ہندو آبادی اس کا پورا احترام کرتی ہے، مگر وہ انہیں کبھی اپنا محسوس نہیں کر پاتا ہے۔ پھر گاؤں میں ہیضہ پھیل جاتا ہے اور وہ اپنے بیوی بچوں کو لیکر گاؤں چھوڑ دیتا ہے۔ رات میں اسے سپنے میں کیمیا گر دکھائی دیتا ہے، جس کے ساتھ کی گفتگو اس کے پورے نظریے کو بدل دیتی ہے اور وہ واپس گاؤں لوٹ کر لوگوں کے علاج میں لگ جاتا ہے۔
نیا مکان
’’کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو بیوی بچوں کی موت کے بعد دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور محض عبادت گزاری کے لیے نیا مکان بنوانا شروع کر دیتا ہے۔ مکان کی تعمیر کو دیکھنے کے لیے وہ ہر روز وہاں جاتا ہے۔ ایک دن اسے وہاں ایک نوجوان عورت مزدور دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کی مسکراہٹ پر فدا ہو جاتا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے ساتھ شادی کرنے اور نئے مکان میں بس جانے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔ مگر ایک دن اسے پتہ چلتا ہے کہ وہ عورت ایک دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔‘‘
join rekhta family!
-
کارگزاریاں76
ادب اطفال1991
-
