- کتاب فہرست 184502
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
ادب اطفال1921
طب869 تحریکات290 ناول4296 -
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی11
- اشاریہ5
- اشعار64
- دیوان1432
- دوہا64
- رزمیہ98
- شرح182
- گیت81
- غزل1079
- ہائیکو12
- حمد44
- مزاحیہ36
- انتخاب1540
- کہہ مکرنی6
- کلیات671
- ماہیہ19
- مجموعہ4828
- مرثیہ374
- مثنوی814
- مسدس57
- نعت533
- نظم1194
- دیگر68
- پہیلی16
- قصیدہ179
- قوالی19
- قطعہ60
- رباعی290
- مخمس17
- ریختی12
- باقیات27
- سلام33
- سہرا9
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ13
- تاریخ گوئی28
- ترجمہ73
- واسوخت26
رؤف پاریکھ کی بچوں کی کہانیاں
کہاوتوں کی کہانیاں1
اونٹ کے گلے میں بلی، دودھ کا دودھ پانی کا پانی، یہ تو ٹیڑھی کھیر ہے، اندھیر نگری چوپٹ راجا، ٹکے سیر بھاجی ٹکے سیر کھاجا، اس قسم کے عجیب جملے آپ اپنے بڑے بوڑھے اور بزرگوں سے اکثر سنتے ہوں گے۔ ایسے جملوں کو کہاوت یا ضرب المثل یا مختصراً صرف مثل کہا جاتا
میرے استاد میرے محسن
جب میں اپنے استادوں کا تصور کرتا ہوں تو میرے ذہن کے پردے پر کچھ ایسے لوگ ابھرتے ہیں جو بہت دلچسپ، مہربان، پڑھے لکھے اور ذہین ہیں اور ساتھ ہی میرے محسن بھی ہیں۔ ان میں سے کچھ کا خیال کر کے مجھے ہنسی بھی آتی ہے اور ان پر پیار بھی آتا ہے۔ اب میں باری باری
میں چھوٹا سا اک لڑکا ہوں
میری عمر چھ ماہ ہے میرا نام ماں باپ نے اللہ جانے کیا رکھا ہے۔ شاید خود ان کو بھی یاد نہ ہو کیونکہ سب لوگ مجھے عجیب عجیب ناموں سے پکارتے ہیں۔ کوئی ببلو کہتا ہے، کوئی پپو اور کوئی گڈو تو کوئی لڈو۔ اللہ جانے ان بڑوں کو نام بگاڑنے میں کیا مزہ ملتا ہے۔ شاید
کہانی ایک جھیل کی
دور بہت دور، شہروں سے بہت دور، ایک ہرا بھرا، خوبصورت اور پرسکوں جنگل تھا۔ اس جنگل کے بیچوں بیچے ایک بہت حسین چھوٹی سی جھیل تھی۔ اس جھیل کا پانی اتنا صاف اور شفاف تھا کہ اس کی تہہ میں اگے ہوئے پودے اور گھاس تک صاف نظر آتے تھے۔ جھیل کی تہہ میں پڑے ہوئے
join rekhta family!
-
ادب اطفال1921
-