- کتاب فہرست 182527
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
ڈرامہ926 تعلیم343 مضامين و خاكه1390 قصہ / داستان1597 صحت105 تاریخ3286طنز و مزاح610 صحافت201 زبان و ادب1709 خطوط743
طرز زندگی30 طب983 تحریکات272 ناول4312 سیاسی354 مذہبیات4754 تحقیق و تنقید6618افسانہ2688 خاکے/ قلمی چہرے245 سماجی مسائل109 تصوف2038نصابی کتاب450 ترجمہ4249خواتین کی تحریریں5827-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1281
- دوہا48
- رزمیہ101
- شرح181
- گیت63
- غزل1262
- ہائیکو11
- حمد55
- مزاحیہ31
- انتخاب1604
- کہہ مکرنی7
- کلیات584
- ماہیہ20
- مجموعہ4875
- مرثیہ387
- مثنوی748
- مسدس44
- نعت584
- نظم1206
- دیگر82
- پہیلی15
- قصیدہ182
- قوالی17
- قطعہ68
- رباعی272
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات17
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ74
- واسوخت25
سجاد ظہیر کے مضامین
حالی کی شاعرانہ اہمیت
ادب اور آرٹ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی قوموں اور افراد کی طرح، وہ ایسی منزل پر پہنچ جاتے ہیں جب ان میں نمو اور ترقی کی رفتار دھیمی ہوتے ہوتے جیسے رک جاتی ہے۔ جدّت نظر کی دل کشی، فکر کی جولانی اور مسائل حیات پر ایسا تبصرہ کرنے
اردو کا حال اور مستقبل
کسی زبان کی ترقی کے کیا معنی ہیں؟ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک زبان ترقی کر رہی ہے اگر اس کے بولنے والوں میں، اس کے لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد میں برابر اضافہ ہوتا رہے، یہاں تک کہ اس زبان کے بولنے والوں کا کوئی فرد بھی ان پڑھ نہ رہ جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ
ادب اور زندگی
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی کسی ادبی مجلس میں زبان کھولناآسان کام نہیں ہے۔ ہر باہر سے آنے والے کو اس کا احساس ہوتا ہے کہ یہ سید احمد خاں، حالی، شبلی، حسرت موہانی کی فکر اور ان کے تخلیقی سرچشموں کا مرکز ہے۔ اور اس کے قیام سے لے کرآج تک اردو نثر ونظم کی
امیر خسرو دہلوی اور ان کی شاعری
میں آج کل دلی کے جس حصے میں رہتا ہوں وہ حوض خاص کہلاتا ہے، جو قطب مینار سے تقریباً دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سے تقریباً اتنے ہی فاصلے پر حضرت نظام الدین اولیا کا بھی مقبرہ ہے۔ امیر خسرو دہلوی کا مزار بھی خواجہ صاحب کے مزار کے پاینتی، انھیں
سجاد ظہیر
1973ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں سید سجاد ظہیر کے انتقال پر سبط حسن صاحب نے زیر نظر دو مضامین سپرد قلم کئے۔ پہلا مضمون انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں شائع ہوا جبکہ دوسرا مضمون انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین، ادارہ یادگار غالب اور ینگ
اردو شاعری کے چند مسئلے
سب اس بات کو مانتے ہیں کہ اردو شاعری ہندوستانی تہذیب کی حسین ترین تخلیقوں میں سے ایک نایاب روحانی اور ذہنی تحفہ ہے۔ شاعری کا منصب یہ ہے کہ وہ ہمارے ذہن کے ان گوشوں میں حقیقت اور سچائی کی روشنی ڈالے، جہاں علم کے معمولی وسیلوں سے مشکل کے ساتھ رسائی ہوتی
تحریک کا فکری و تہذیبی پس منظر
ترقی پسند مصنفین کی تنظیمی شکل و صورت اور کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں پہلے سے کوئی بنا بنایا خاکہ نہیں تھا۔ اس کے متعلق مختلف لوگ مختلف طریقوں سے سوچتے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جگہ جگہ پر انجمن کی شاخیں بنانے کی کوئی
اردو کے نثری ادب پر انقلاب روس کا اثر
انقلاب روس کا تمام اقوام مشرق پر گہرا اثر پڑا۔ دنیا کی پہلی مزدوروں اور کسانوں کی حکومت کے قیام، سر مایہ داری اور جاگیری نظام کے خاتمے اور روسی سلطنت میں محکوم ایشیائی اقوام کی آزادی نے مشرقی قوموں کی آزادی کی تحریکوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔
سجاد ظہیر کا نظریۂ ادب
ہمارے بزرگ خط لکھتے ہوئے بالعموم اس فقرے پر اسے تمام کرتے تھے۔ برخوردار اِس تھوڑے لکھے کو بہت سمجھ اور اپنی خیریت و حالات تفصیل سے لکھ۔ خطوں میں لکھا جانے والا یہ رسمی فقرہ اس وقت جب میں سجاد ظہیر کی تحریریں پڑھ رہا ہوں بہت بامعنی نظر آ رہا ہے۔
عظیم ترقی پسند شاعر: غالب
دنیا کے تمام اچھے اور بڑے ادیبوں میں ایک بات مشترک ہے؛ انسان کے ساتھ گہری ہمدردی، اس کے کردار کے مختلف پہلوؤں اور اس کی نفسیات کی پیچیدہ کیفیتوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور زندگی کو لطیف، پاکیزہ اور حسین، ثمر بار اور پر بہار دیکھنے کی تمنا۔
فنی تخلیق کا مفہوم اور معیار
(ادبی مسائل میں حکم دینے کی بدعت) رومیانتسف نے اپنے مضمون کے تیسرے اور آخری حصے میں سوویت یونین کے لوگوں کی کلچرل زندگی کو بہتر اور زیادہ بار آور بنانے کے مسئلے سے بحث کی ہے۔ سوویت یونین کے وہ دانشور جو فنون لطیفہ کے میدان میں کام کرتے ہیں، اپنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں85
ادب اطفال1987
-
