- کتاب فہرست 180696
-
-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
ڈرامہ921 تعلیم347 مضامين و خاكه1377 قصہ / داستان1656 صحت108 تاریخ3344طنز و مزاح604 صحافت201 زبان و ادب1145
خطوط726 طرز زندگی30 طب974 تحریکات268 ناول4276 سیاسی349 مذہبیات4769 تحقیق و تنقید6699افسانہ2670 خاکے/ قلمی چہرے236 سماجی مسائل111 تصوف2014نصابی کتاب440 ترجمہ4190-
کتابیں : بہ اعتبار موضوع
- بیت بازی14
- اشاریہ4
- اشعار68
- دیوان1254
- دوہا49
- رزمیہ100
- شرح186
- گیت63
- غزل1265
- ہائیکو11
- حمد59
- مزاحیہ31
- انتخاب1583
- کہہ مکرنی6
- کلیات571
- ماہیہ20
- مجموعہ4874
- مرثیہ387
- مثنوی736
- مسدس44
- نعت590
- نظم1209
- دیگر84
- پہیلی14
- قصیدہ179
- قوالی16
- قطعہ67
- رباعی264
- مخمس15
- ریختی12
- باقیات16
- سلام34
- سہرا12
- شہر آشوب، ہجو، زٹل نامہ17
- تاریخ گوئی26
- ترجمہ75
- واسوخت24
سجاد ظہیر کے مضامین
حالی کی شاعرانہ اہمیت
ادب اور آرٹ کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی کبھی قوموں اور افراد کی طرح، وہ ایسی منزل پر پہنچ جاتے ہیں جب ان میں نمو اور ترقی کی رفتار دھیمی ہوتے ہوتے جیسے رک جاتی ہے۔ جدّت نظر کی دل کشی، فکر کی جولانی اور مسائل حیات پر ایسا تبصرہ کرنے
اردو کا حال اور مستقبل
کسی زبان کی ترقی کے کیا معنی ہیں؟ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک زبان ترقی کر رہی ہے اگر اس کے بولنے والوں میں، اس کے لکھنے پڑھنے والوں کی تعداد میں برابر اضافہ ہوتا رہے، یہاں تک کہ اس زبان کے بولنے والوں کا کوئی فرد بھی ان پڑھ نہ رہ جائے۔ دوسرے یہ کہ وہ
ادب اور زندگی
علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی کسی ادبی مجلس میں زبان کھولناآسان کام نہیں ہے۔ ہر باہر سے آنے والے کو اس کا احساس ہوتا ہے کہ یہ سید احمد خاں، حالی، شبلی، حسرت موہانی کی فکر اور ان کے تخلیقی سرچشموں کا مرکز ہے۔ اور اس کے قیام سے لے کرآج تک اردو نثر ونظم کی
امیر خسرو دہلوی اور ان کی شاعری
میں آج کل دلی کے جس حصے میں رہتا ہوں وہ حوض خاص کہلاتا ہے، جو قطب مینار سے تقریباً دو ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سے تقریباً اتنے ہی فاصلے پر حضرت نظام الدین اولیا کا بھی مقبرہ ہے۔ امیر خسرو دہلوی کا مزار بھی خواجہ صاحب کے مزار کے پاینتی، انھیں
سجاد ظہیر
1973ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں سید سجاد ظہیر کے انتقال پر سبط حسن صاحب نے زیر نظر دو مضامین سپرد قلم کئے۔ پہلا مضمون انگریزی روزنامہ ڈان کراچی میں شائع ہوا جبکہ دوسرا مضمون انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین، ادارہ یادگار غالب اور ینگ
اردو شاعری کے چند مسئلے
سب اس بات کو مانتے ہیں کہ اردو شاعری ہندوستانی تہذیب کی حسین ترین تخلیقوں میں سے ایک نایاب روحانی اور ذہنی تحفہ ہے۔ شاعری کا منصب یہ ہے کہ وہ ہمارے ذہن کے ان گوشوں میں حقیقت اور سچائی کی روشنی ڈالے، جہاں علم کے معمولی وسیلوں سے مشکل کے ساتھ رسائی ہوتی
تحریک کا فکری و تہذیبی پس منظر
ترقی پسند مصنفین کی تنظیمی شکل و صورت اور کام کرنے کے طریقوں کے بارے میں ہمارے ذہنوں میں پہلے سے کوئی بنا بنایا خاکہ نہیں تھا۔ اس کے متعلق مختلف لوگ مختلف طریقوں سے سوچتے تھے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال تھا کہ جگہ جگہ پر انجمن کی شاخیں بنانے کی کوئی
اردو کے نثری ادب پر انقلاب روس کا اثر
انقلاب روس کا تمام اقوام مشرق پر گہرا اثر پڑا۔ دنیا کی پہلی مزدوروں اور کسانوں کی حکومت کے قیام، سر مایہ داری اور جاگیری نظام کے خاتمے اور روسی سلطنت میں محکوم ایشیائی اقوام کی آزادی نے مشرقی قوموں کی آزادی کی تحریکوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کیا۔
سجاد ظہیر کا نظریۂ ادب
ہمارے بزرگ خط لکھتے ہوئے بالعموم اس فقرے پر اسے تمام کرتے تھے۔ برخوردار اِس تھوڑے لکھے کو بہت سمجھ اور اپنی خیریت و حالات تفصیل سے لکھ۔ خطوں میں لکھا جانے والا یہ رسمی فقرہ اس وقت جب میں سجاد ظہیر کی تحریریں پڑھ رہا ہوں بہت بامعنی نظر آ رہا ہے۔
عظیم ترقی پسند شاعر: غالب
دنیا کے تمام اچھے اور بڑے ادیبوں میں ایک بات مشترک ہے؛ انسان کے ساتھ گہری ہمدردی، اس کے کردار کے مختلف پہلوؤں اور اس کی نفسیات کی پیچیدہ کیفیتوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت اور زندگی کو لطیف، پاکیزہ اور حسین، ثمر بار اور پر بہار دیکھنے کی تمنا۔
فنی تخلیق کا مفہوم اور معیار
(ادبی مسائل میں حکم دینے کی بدعت) رومیانتسف نے اپنے مضمون کے تیسرے اور آخری حصے میں سوویت یونین کے لوگوں کی کلچرل زندگی کو بہتر اور زیادہ بار آور بنانے کے مسئلے سے بحث کی ہے۔ سوویت یونین کے وہ دانشور جو فنون لطیفہ کے میدان میں کام کرتے ہیں، اپنے
join rekhta family!
-
کارگزاریاں89
ادب اطفال1989
-
