بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے

شکیل اعظمی

بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے

شکیل اعظمی

MORE BYشکیل اعظمی

    بات سے بات کی گہرائی چلی جاتی ہے

    جھوٹ آ جائے تو سچائی چلی جاتی ہے

    رات بھر جاگتے رہنے کا عمل ٹھیک نہیں

    چاند کے عشق میں بینائی چلی جاتی ہے

    میں نے اس شہر کو دیکھا بھی نہیں جی بھر کے

    اور طبیعت ہے کہ گھبرائی چلی جاتی ہے

    کچھ دنوں کے لیے منظر سے اگر ہٹ جاؤ

    زندگی بھر کی شناسائی چلی جاتی ہے

    پیار کے گیت ہواؤں میں سنے جاتے ہیں

    دف بجاتی ہوئی رسوائی چلی جاتی ہے

    چھپ سے گرتی ہے کوئی چیز رکے پانی میں

    دور تک پھٹتی ہوئی کائی چلی جاتی ہے

    مست کرتی ہے مجھے اپنے لہو کی خوشبو

    زخم سب کھول کے پروائی چلی جاتی ہے

    در و دیوار پہ چہرے سے ابھر آتے ہیں

    جسم بنتی ہوئی تنہائی چلی جاتی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے