Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

قیصر خالد

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

قیصر خالد

ڈگمگاتے کبھی قدموں کو سنبھلتے دیکھا

راہ الفت پہ مگر لوگوں کو چلتے دیکھا

نفرتیں مل گئیں معصوم دلوں میں اکثر

چاہتوں کو دل سفاک میں پلتے دیکھا

حوصلہ تھا کوئی مقصد یا سلیقہ، اس کو

وقت کے تند تھپیڑوں میں سنبھلتے دیکھا

جن کو پالا تھا بہاروں نے جہاں بھر کی، انہیں

آزمائش کی کڑی دھوپ میں جلتے دیکھا

بے جھجھک چل نہ سکا دشت وفا میں اب تک

رکتے دیکھا کبھی اس شوخ کو چلتے دیکھا

سبزہ و گل پہ ہوا رکھتی ہے شبنم لیکن

پھر ہوا کو ان ہی قطروں کو کچلتے دیکھا

شہر یا شہر سے باہر نہیں، اپنے گھر میں

ہم نے اقدار زمانہ کو بدلتے دیکھا

آزمائش ہے، اجازت ہے کہ مجبوری ہے

ظلم کو ہم نے یہاں پھولتے پھلتے دیکھا

آتش عشق سے بچئے کہ یہاں ہم نے بھی

موم کی طرح سے پتھر کو پگھلتے دیکھا

اپنے جذبات تو مشہور تھے لیکن ہم نے

تھے جو ہشیار بہت ان کو ابلتے دیکھا

ڈال دی پیروں میں اس شخص کے زنجیر یہاں

وقت نے جس کو زمانے میں اچھلتے دیکھا

بذلہ سنجی پہ بہت ناز تھا جن کو اپنی

ہم نے ان کو بھی یہاں زہر اگلتے دیکھا

روز یہ مشرق و مغرب کا تماشہ کیوں ہے

اگتے دیکھا ہے جسے اس کو ہی ڈھلتے دیکھا

آ گیا یاد وہ بچپن کا زمانہ خالدؔ

جب کہیں پھول سے بچوں کو اچھلتے دیکھا

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے