Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے

نشور واحدی

حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے

نشور واحدی

MORE BYنشور واحدی

    حقیقت جس جگہ ہوتی ہے تابانی بتاتی ہے

    کوئی پردے میں ہوتا ہے تو چلمن جگمگاتی ہے

    وہ آئے بھی نہیں اور زندگی کی رات جاتی ہے

    سحر ہوتی ہے اور شمع تمنا جھلملاتی ہے

    ستاروں کا سہارا لے کے دھرتی بیٹھ جاتی ہے

    فلک کو دیکھ کر جس دم غریبی مسکراتی ہے

    میں دامن تھامتا ہوں اور ادا دامن چھڑاتی ہے

    محبت ہے تو کچھ بے گانگی بھی پائی جاتی ہے

    مری ناکامیٔ غم ذوق حیرانی بناتی ہے

    یہ دنیا دور سے میری نظر میں جگمگاتی ہے

    سکوت وصل کا لمحہ بھی کیا بیدار خوابی ہے

    محبت جاگتی ہے اور جوانی سوئی جاتی ہے

    وہ جب سنجیدہ ہوتے ہیں ادا انگڑائی لیتی ہے

    وہ جب خاموش ہوتے ہیں جوانی گنگناتی ہے

    زمانہ ہے کہ دل گیری میں افسردہ سا رہتا ہے

    طبیعت ہے کہ غمگینی میں جولانی پہ آتی ہے

    ہوائے دامن نکہت فزا کا واسطہ تم کو

    ذرا ٹھہرو چراغ زیست کی لو تھرتھراتی ہے

    مسلسل گلشن ہستی میں کانٹے اس نے بوئے ہیں

    یہ دنیا پھر انہیں کانٹوں سے کیوں دامن بچاتی ہے

    نہ غم فرصت ہی دیتا ہے نہ آنسو بند ہوتے ہیں

    برستا جا رہا ہے مینہ بدلی بنتی جاتی ہے

    یہی ہستی نشورؔ اک روز ہے انجام ہستی بھی

    یہی دنیا کسی منزل پہ عقبیٰ ہو کے آتی ہے

    یہ متن درج ذیل زمرے میں بھی شامل ہے

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے