کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا

عمیر منظر

کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا

عمیر منظر

MORE BYعمیر منظر

    کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا

    اسے کس کس طرح سے در پئے آزار ہونا تھا

    سنا یہ تھا بہت آسودہ ہیں ساحل کے باشندے

    مگر ٹوٹی ہوئی کشتی میں دریا پار ہونا تھا

    صدائے الاماں دیوار گریہ سے پلٹ آئی

    مقدر کوفہ و کابل کا جو مسمار ہونا تھا

    مقدر کے نوشتے میں جو لکھا ہے وہی ہوگا

    یہ مت سوچو کہ کس پر کس طرح سے وار ہونا تھا

    یہاں ہم نے کسی سے دل لگایا ہی نہیں منظرؔ

    کہ اس دنیا سے آخر ایک دن بے زار ہونا تھا

    RECITATIONS

    عمیر منظر

    عمیر منظر,

    عمیر منظر

    کبھی اقرار ہونا تھا کبھی انکار ہونا تھا عمیر منظر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے