کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

ذیشان ساحل

کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

ذیشان ساحل

MORE BYذیشان ساحل

    کس قدر محدود کر دیتا ہے غم انسان کو

    ختم کر دیتا ہے ہر امید ہر امکان کو

    گیت گاتا بھی نہیں گھر کو سجاتا بھی نہیں

    اور بدلتا بھی نہیں وہ ساز کو سامان کو

    اتنے برسوں کی ریاضت سے جو قائم ہو سکا

    آپ سے خطرہ بہت ہے میرے اس ایمان کو

    کوئی رکتا ہی نہیں اس کی تسلی کے لیے

    دیکھتا رہتا ہے دل ہر اجنبی مہمان کو

    اب تو یہ شاید کسی بھی کام آ سکتا نہیں

    آپ ہی لے جائیے میرے دل نادان کو

    شہر والوں کو تو جیسے کچھ پتا چلتا نہیں

    روکتا رہتا ہے ساحل روز و شب طوفان کو

    مأخذ :
    • کتاب : Wajah-e-Begangi (Pg. 61)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے