aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تاثیر جذب مستوں کی ہر ہر غزل میں ہے

اسد علی خان قلق

تاثیر جذب مستوں کی ہر ہر غزل میں ہے

اسد علی خان قلق

MORE BYاسد علی خان قلق

    تاثیر جذب مستوں کی ہر ہر غزل میں ہے

    اعجاز بڑ میں ہے تو کرامت زٹل میں ہے

    دل میں جو اپنے یار ہے تو دل بغل میں ہے

    پھر کیوں ہے غم کہ صاحب خانہ محل میں ہے

    کتنا غرور ہے تمہیں حسن و جمال پر

    گو یاد یار حسن تمہارے عمل میں ہے

    ہے یاد دل میں پنجۂ رنگین یار کی

    مہندی کے چور کا گزر اپنے محل میں ہے

    بد تر خزاں سے ہے ہمیں اس باغ کی بہار

    بوئی نفاق پھول میں ہی زہر پھل میں ہے

    لیتے ہیں بوسے ان لب و گیسو کے رات دن

    ملک یمن سے تاختن اپنے عمل میں ہے

    منعم یہ کارخانے ہیں دنیا کے کر نہ فکر

    کوئی ہے جھونپڑے میں تو کوئی محل میں ہے

    جو بن گیا وہ پیچ مگر ان کے ہیں وہی

    رسی کا بل حضور کی زلفوں کے بل میں ہے

    پہلو میں مجھ حزیں کے ٹپکتا ہے رات دن

    یا رب یہ دل ہے یا کوئی پھوڑا بغل میں ہے

    اتنا لذیذ باغ جہاں میں ثمر ہے کون

    جو ذائقہ نہال تمنا کے پھل میں ہے

    حسرت ہے ہم بھی کہتے کسی دن یہ اے فلک

    اے دل مبارک آج تو دل بر بغل میں ہے

    دشنام دے کے بوسے یہ کہہ کہہ کے دیتے ہیں

    انعام گالیوں کے یہ نعم البدل میں ہے

    لایا ہے رنگ پھر گل داغ جنوں مرا

    شاید نزول نیر اعظم حمل میں ہے

    مجھ رند بادہ کش کو یہ جو خوف محتسب

    دل کی طرح چھپی ہوئی بوتل بغل میں ہے

    بحر سرشک دیدۂ دل میں ہے موجزن

    دیکھو طلسم حسن کہ دریا کنول میں ہے

    اے مے کشو تمہاری بھی دعوت کریں گے ہم

    عرس جناب پیر مغاں آج کل میں ہے

    صانع نے وہ دہن نہ بنایا نہ کچھ لکھا

    خالی جگہ نوشتۂ روز ازل میں ہے

    خط بھی دیا تو قاصد غفلت شعار کو

    نامہ مرا بندھا ہوا بازوے شل میں ہے

    دست جنوں نے پھاڑ کے پھینکا ادھر ادھر

    دامن ابد میں ہے تو گریباں ازل میں ہے

    اشکوں کے بدلے خون کے قطرے ٹپکتے ہیں

    بتی ہمارے زخم کی روشن کنول میں ہے

    دل پھک رہا ہے گرچہ ہم آغوش ہے وہ گل

    پہلو میں میرے خلد ہے دوزخ بغل میں ہے

    بیمار عشق کہتے ہیں دار الشفا اسے

    ایسی ہی جو حسین فرنگی محل میں ہے

    لکھنا تھا جو کچھ آپ کو پہلے ہی لکھ دیا

    حال ابد بھی دفتر روز ازل میں ہے

    پہلو میں دل ہمارے ہے زیب کنار یار

    آغوش میں ہے دوست تو دشمن بغل میں ہے

    وعدہ کیا تھا آج سو پھر کل پہ ٹل گیا

    آخر ہماری موت اسی آج کل میں ہے

    لپکا پڑا ہے حسن پرستی کا کس قدر

    جب دیکھیے قلقؔ کو فرنگی محل میں ہے

    مأخذ:

    Mazhar-e-Ishq (Pg. e-155 p-153)

    • مصنف: اسد علی خان قلق
      • اشاعت: 1911
      • ناشر: منشی نول کشور،کانپور

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے