Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

حکیم منظور

چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

حکیم منظور

MORE BYحکیم منظور

    چھوڑ کر مجھ کو کہیں پھر اس نے کچھ سوچا نہ ہو

    میں ذرا دیکھوں وہ اگلے موڑ پر ٹھہرا نہ ہو

    میں بھی اک پتھر لیے تھا بزدلوں کی بھیڑ میں

    اور اب یہ ڈر ہے اس نے مجھ کو پہچانا نہ ہو

    ہم کسی بہروپئے کو جان لیں مشکل نہیں

    اس کو کیا پہچانیے جس کا کوئی چہرا نہ ہو

    اس کو الفاظ و معانی کا تصادم کھا گیا

    اب وہ یوں چپ ہے کہ جیسے مدتوں بولا نہ ہو

    دندناتا یوں پھرے ہے شہر کی سڑکوں پہ وہ

    جیسے پورے شہر میں کوئی بھی آئینہ نہ ہو

    لوگ کہتے ہیں ابھی تک ہے وہ سرگرم سفر

    مجھ کو اندیشہ کہیں وہ راہ میں سویا نہ ہو

    مجھ کو اے منظورؔ یوں محسوس ہوتا ہے کبھی

    جیسے سب اپنے ہوں جیسے کوئی بھی اپنا نہ ہو

    مأخذ :
    • کتاب : Natamam (Pg. 101)
    • Author : Hakeem Manzoor
    • مطبع : Samt Publication 2/48 Rajendar Nagar New Delhi-110060 (1977)
    • اشاعت : 1977
    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    ગુજરાતી ભાષા-સાહિત્યનો મંચ : રેખ્તા ગુજરાતી

    મધ્યકાલથી લઈ સાંપ્રત સમય સુધીની ચૂંટેલી કવિતાનો ખજાનો હવે છે માત્ર એક ક્લિક પર. સાથે સાથે સાહિત્યિક વીડિયો અને શબ્દકોશની સગવડ પણ છે. સંતસાહિત્ય, ડાયસ્પોરા સાહિત્ય, પ્રતિબદ્ધ સાહિત્ય અને ગુજરાતના અનેક ઐતિહાસિક પુસ્તકાલયોના દુર્લભ પુસ્તકો પણ તમે રેખ્તા ગુજરાતી પર વાંચી શકશો

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے