فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے

ساحر لکھنوی

فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے

ساحر لکھنوی

MORE BYساحر لکھنوی

    فصل ایسی ہے الفت کے دامن تلے

    ہم جلیں تم جلو ساری دنیا جلے

    تپ کے کندن کی مانند نکھرا جنوں

    جس قدر غم بڑھا بڑھ گئے حوصلے

    دل میں پھیلی ہے یوں روشنی یاد کی

    جیسے ویران مندر میں دیپک جلے

    جشن سے میری بربادیوں کا چلو

    دوستو آؤ شیشے میں شعلہ ڈھلے

    ہر نفس جیسے جینے کی تعزیر ہے

    کتنے دشوار ہیں عمر کے مرحلے

    ہم الجھتے رہے فلسفی کی طرح

    اور بڑھتے گئے وقت کے مسئلے

    موڑ سکتے ہیں دنیا کا رخ آج ہی

    آپ سے کچھ حسیں ہم سے کچھ منچلے

    وقت مجھ سے مرا حافظہ چھین لے

    آگ میں کوئی یادوں کی کب تک چلے

    خندۂ گل سے ساحرؔ نہ بہلیں گے ہم

    تازہ دم میں جنوں کے ابھی ولولے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے