آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

قتیل شفائی

آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    آؤ کوئی تفریح کا سامان کیا جائے

    پھر سے کسی واعظ کو پریشان کیا جائے

    بے لغزش پا مست ہوں ان آنکھوں سے پی کر

    یوں محتسب شہر کو حیران کیا جائے

    ہر شے سے مقدس ہے خیالات کا رشتہ

    کیوں مصلحتوں پر اسے قربان کیا جائے

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    وہ شخص جو دیوانوں کی عزت نہیں کرتا

    اس شخص کا بھی چاک گریبان کیا جائے

    پہلے بھی قتیلؔ آنکھوں نے کھائے کئی دھوکے

    اب اور نہ بینائی کا نقصان کیا جائے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY