نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

ابو المجاہد زاہد

نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

ابو المجاہد زاہد

MORE BYابو المجاہد زاہد

    نئی صبح چاہتے ہیں نئی شام چاہتے ہیں

    جو یہ روز و شب بدل دے وہ نظام چاہتے ہیں

    وہی شاہ چاہتے ہیں جو غلام چاہتے ہیں

    کوئی چاہتا ہی کب ہے جو عوام چاہتے ہیں

    اسی بات پر ہیں برہم یہ ستم گران عالم

    کہ جو چھن گیا ہے ہم سے وہ مقام چاہتے ہیں

    کسے حرف حق سناؤں کہ یہاں تو اس کو سننا

    نہ خواص چاہتے ہیں نہ عوام چاہتے ہیں

    یہ نہیں کہ تو نے بھیجا ہی نہیں پیام کوئی

    مگر اک وہی نہ آیا جو پیام چاہتے ہیں

    تری راہ دیکھتی ہیں مری تشنہ کام آنکھیں

    ترے جلوے میرے گھر کے در و بام چاہتے ہیں

    وہ کتاب زندگی ہی نہ ہوئی مرتب اب تک

    کہ ہم انتساب جس کا ترے نام چاہتے ہیں

    نہ مراد ہوگی پوری کبھی ان شکاریوں کی

    مجھے دیکھنا جو زاہدؔ تہ دام چاہتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY