ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

انور شعور

ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

انور شعور

MORE BYانور شعور

    ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی

    غائبانہ ملاقات ہوتی رہی

    ہم بلاتے وہ تشریف لاتے رہے

    خواب میں یہ کرامات ہوتی رہی

    کاسۂ چشم لبریز ہوتی رہی

    اس دریچے سے خیرات ہوتی رہی

    دل بھی زور آزمائی سے ہارا نہیں

    گرچہ ہر مرتبہ مات ہوتی رہی

    سر بچائے رہا صبر کا سائباں

    آسماں سے تو برسات ہوتی رہی

    گو محبت سے ہم جی چراتے رہے

    زندگی بھر یہ بد ذات ہوتی رہی

    شہر بھر میں پھرایا گیا قیس کو

    کوچے کوچے مدارات ہوتی رہی

    جاگتے اور سوتے رہے ہم شعورؔ

    دن نکلتا رہا رات ہوتی رہی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ان سے تنہائی میں بات ہوتی رہی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY