مکر و فریب ظلمت شب گیر کا جواب
مکر و فریب ظلمت شب گیر کا جواب
دینا پڑے گا جھوٹ کی تشہیر کا جواب
قاصد کو خط تھما کے اسی سوچ میں ہوں گم
لکھیں گے کیا وہ اب مری تحریر کا جواب
اعلان کرکے ترک تعلق کا مجھ سے آپ
کیوں پوچھتے ہیں حالت دلگیر کا جواب
مانگے گی تم سے نسل جو آئے گی تیرے بعد
کھوئے ہوئے وقار کا توقیر کا جواب
یہ بزم بزم عام نہیں بزم یار ہے
دینا پڑے گا آپ کو تاخیر کا جواب
ہر وار کا جواب ہے لیکن تری نگاہ
ترکش میں میرے ہے نہیں اس تیر کا جواب
مشتاقؔ کم نہیں کسی شمشیر سے قلم
دیتے ہیں ہم قلم سے ہی شمشیر کا جواب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.