Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا

قتیل شفائی

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا

قتیل شفائی

وہ شخص کہ میں جس سے محبت نہیں کرتا

ہنستا ہے مجھے دیکھ کے نفرت نہیں کرتا

پکڑا ہی گیا ہوں تو مجھے دار پہ کھینچو

سچا ہوں مگر اپنی وکالت نہیں کرتا

کیوں بخش دیا مجھ سے گنہ گار کو مولا

منصف تو کسی سے بھی رعایت نہیں کرتا

گھر والوں کو غفلت پہ سبھی کوس رہے ہیں

چوروں کو مگر کوئی ملامت نہیں کرتا

کس قوم کے دل میں نہیں جذبات براہیم

کس ملک پہ نمرود حکومت نہیں کرتا

دیتے ہیں اجالے مرے سجدوں کی گواہی

میں چھپ کے اندھیرے میں عبادت نہیں کرتا

بھولا نہیں میں آج بھی آداب جوانی

میں آج بھی اوروں کو نصیحت نہیں کرتا

انسان یہ سمجھیں کہ یہاں دفن خدا ہے

میں ایسے مزاروں کی زیارت نہیں کرتا

دنیا میں قتیلؔ اس سا منافق نہیں کوئی

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

مأخذ :
  • کتاب : kalam-e-qateel shifai (Pg. 105)

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے