جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

شہریار

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

شہریار

MORE BYشہریار

    جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

    زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے

    دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سے

    سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے

    مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیں

    اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے

    تجھ سے مل کر بھی نہ تنہائی مٹے گی میری

    دل میں رہ رہ کے یہی بات کھٹکتی کیوں ہے

    مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو مری وحشت کا سبب

    بوئے آوارہ سے پوچھو کہ بھٹکتی کیوں ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY