نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

ناصر کاظمی

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

ناصر کاظمی

MORE BYناصر کاظمی

    نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے

    وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

    جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی

    ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

    وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا

    اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

    اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں

    ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

    مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا

    ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    خلیل حیدر

    خلیل حیدر

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے