ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

جون ایلیا

ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

جون ایلیا

MORE BYجون ایلیا

    ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں

    کہ اس گلی میں گئے اب زمانے ہو گئے ہیں

    تم اپنے چاہنے والوں کی بات مت سنیو

    تمہارے چاہنے والے دوانے ہو گئے ہیں

    وہ زلف دھوپ میں فرقت کی آئی ہے جب یاد

    تو بادل آئے ہیں اور شامیانے ہو گئے ہیں

    جو اپنے طور سے ہم نے کبھی گزارے تھے

    وہ صبح و شام تو جیسے فسانے ہو گئے ہیں

    عجب مہک تھی مرے گل ترے شبستاں کی

    سو بلبلوں کے وہاں آشیانے ہو گئے ہیں

    ہمارے بعد جو آئیں انہیں مبارک ہو

    جہاں تھے کنج وہاں کارخانے ہو گئے ہیں

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    ہمارے زخم تمنا پرانے ہو گئے ہیں نعمان شوق

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY