اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

عفیف سراج

اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

عفیف سراج

MORE BYعفیف سراج

    اس نے کیوں سب سے جدا میری پذیرائی کی

    مصلحت کوش تھی ہر بات شناسائی کی

    زخم دل ہم نے سجائے تو ادھر بھی اس نے

    ناز و انداز سے جاری ستم آرائی کی

    جسم ترشا ہوا سانچے میں ڈھلا ہے جیسے

    دست‌ آزر نے قسم کھائی ہو صناعی کی

    ایسا سیراب کیا اس نے کہ خود تشنہ لبی

    اک سند بن گئی تاریخ میں سقائی کی

    شکر ہے اے شب ہجراں کہ بڑی مدت پر

    ہو گئی دل سے ملاقات بھی بینائی کی

    شکریا تم نے بجھایا مری ہستی کا چراغ

    تم سزاوار نہیں تم نے تو اچھائی کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY