بطخ اور سانپ

کشور ناہید

بطخ اور سانپ

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    ہرن کا ایک چھوٹا بچہ

    دریا کے کنارے آ نکلا

    وہاں پہ ایک بطخ بھی تھی

    مچھلی سے وہ یہ کہتی تھی

    میں تو دریا میں نہاتی ہوں

    جب چاہوں میں اڑ جاتی ہوں

    تھک جاؤں میں تو بیٹھ رہوں

    جب چاہوں میں سبزے پہ چلوں

    تم تو دریا کی مچھلی ہو

    پانی میں رہتی بستی ہو

    تم میری طرح سے چل نہ سکو

    تم میری طرح ہل جل نہ سکو

    تم میری طرح سے آ نہ سکو

    تم میری طرح سے جا نہ سکو

    یہ بات سنی اک سانپ نے

    غصے سے لگا وہ کانپنے

    وہ بولا کیوں مجبور ہے تو

    کم ہمت ہے مجبور ہے تو

    یوں مچھلی کو شیخی نہ دکھا

    کچھ ہمت ہے تو سامنے آ

    اب بول کہ کیا تو اڑتی ہے

    آ چیل کے سامنے اڑ کے دکھا

    اب بول کہ کیا تو دوڑتی ہے

    آ خرگوش سے ریس لگا

    اب بول کہ کیا تو تیرتی ہے

    آ تو مچھلی سے پیر ملا

    اب تو سمجھی اب تو جانی

    یہ باتیں ہیں آنی جانی

    ہے اصل تو یہ کچھ کر کے دکھا

    دنیا یہ کہے کیا خوب کیا

    جو گر سیکھو پورا سیکھو

    جو کام کرو اچھا ہی کرو

    مأخذ :
    • کتاب : Aankh Mecholi (Pg. 7)
    • Author : M.K.Pasha
    • مطبع : Educational publishing house (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY