ترانۂ وطن

کنولؔ ڈبائیوی

ترانۂ وطن

کنولؔ ڈبائیوی

MORE BYکنولؔ ڈبائیوی

    رشک فردوس ہے تیرا رنگیں چمن

    تجھ پہ گلباش کرتے ہیں کوہ و دمن

    تیرے ماتھے کی ریکھا ہیں گنگ و جمن

    تیری مٹی میں خوابیدہ ہیں فکر و فن

    فخر یونان تھی تیری بزم کہن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    دیوتاؤں کی رشیوں کی یہ سرزمیں

    ذرہ ذرہ تری خاک کا ہے حسیں

    چومتا ہے قمر روز تیری جبیں

    تیرے جلوے نہ ہوں کس لیے دل نشیں

    تیرے ذرے میں خورشید کی ہے کرن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    تیرے قدموں کی زینت ہے گوداوری

    ہے ہمالہ کا پربت ترا سنتری

    ہے حقیقت میں کشمیر جنت تری

    ذرے ذرے میں تیرے ہے اک زندگی

    دیش کی شان ہے تاج کا بانکپن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    کس بلا کی کشش تیرے خاروں میں ہے

    اوج فردوس پنہاں بہاروں میں ہے

    اک نیا بانکپن کوہساروں میں ہے

    دل کشی کس قدر چاند تاروں میں ہے

    ہے زمانہ سے اعلیٰ تری انجمن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    میرا مندر ہے تو میرا کعبہ ہے تو

    میرا ملجا ہے تو میرا ماویٰ ہے تو

    میری عقبیٰ ہے تو میری دنیا ہے تو

    میرا ہے ساز دل میرا نغمہ ہے تو

    میری ہر سانس تیرے لیے نغمہ زن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    سب کو الفت کے مرکز پہ لاؤں گا میں

    ایکتا کا دیا پھر جلاؤں گا میں

    اپنے ہاتھوں وطن کو سجاؤں گا میں

    پریم کے گیت ہر وقت گاؤں گا میں

    اس طرح کا بناؤں گا میں سنگٹھن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    خون سے اپنے دوں گا تجھے زندگی

    تیرے پھولوں کو دوں گا نرالی خوشی

    ذرے ذرے کو بخشوں گا میں روشنی

    سب کو ایسی سناؤں گا میں راگنی

    شانتی کی بہاؤں گا گنگ و جمن

    میرے ہندستاں میرے پیارے وطن

    مأخذ :
    • کتاب : Mizraab (Kulliyat) (Pg. 65)
    • Author : Prof. Ibne Kanwal
    • مطبع : Kitabi Duniya, Delhi (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY