تلاش

MORE BYعارفہ شہزاد

    دسمبر کے دالان میں

    اس چمکتی ہوئی آفتابی تمازت کو روح میں اتارے

    کرن در کرن تم کسے دیکھتی ہو

    خنک سی ہواؤں کی ان سرسراتی ہوئی انگلیوں میں

    جو اک لمس محسوس کرنے لگی ہو وہ کیا ہے

    کوئی واہمہ ہے؟ حقیقت ہے کوئی؟

    کہ اک خواب ہے جو سر راہ آ کر ملا ہے

    شب و روز مصروفیت میں گھری ہو

    کوئی کام بھی ہو

    اسے ایک لمحہ نہیں بھولتی ہو!

    تمہیں کیا ہوا ہے

    سڑک پر رواں

    اپنی گاڑی میں بیٹھی

    یہاں آتی جاتی ہوئی گاڑیوں میں

    کسے دیکھتی ہو

    کبھی سامنا ہو

    تو آنکھوں میں اس کی

    کسے ڈھونڈھتی ہو؟

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے