Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Afzal Khan's Photo'

جدید لب و لہجے کے پاکستانی شاعر

جدید لب و لہجے کے پاکستانی شاعر

افضل خان کے اشعار

29.9K
Favorite

باعتبار

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

تو بھی سادہ ہے کبھی چال بدلتا ہی نہیں

ہم بھی سادہ ہیں اسی چال میں آ جاتے ہیں

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو

محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

بچھڑنے کا ارادہ ہے تو مجھ سے مشورہ کر لو

محبت میں کوئی بھی فیصلہ ذاتی نہیں ہوتا

اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی

اس کو کہتے ہیں انتظار میاں

اب جو پتھر ہے آدمی تھا کبھی

اس کو کہتے ہیں انتظار میاں

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا

تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا

تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا

دیر سے آنے پر وو خفا تھا آخر مان گیا

آج میں اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا

دیر سے آنے پر وو خفا تھا آخر مان گیا

آج میں اپنے باپ سے ملنے قبرستان گیا

اتنی ساری یادوں کے ہوتے بھی جب دل میں

ویرانی ہوتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے

اتنی ساری یادوں کے ہوتے بھی جب دل میں

ویرانی ہوتی ہے تو حیرانی ہوتی ہے

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی

یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی

لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی

یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی

وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

بنا رکھی ہیں دیواروں پہ تصویریں پرندوں کی

وگرنہ ہم تو اپنے گھر کی ویرانی سے مر جائیں

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی

محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی

مجھے رونا نہیں آواز بھی بھاری نہیں کرنی

محبت کی کہانی میں اداکاری نہیں کرنی

میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں

مگر جو بیچ میں کمبخت شاعری ہے نا

میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں

مگر جو بیچ میں کمبخت شاعری ہے نا

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ

میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ

میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر

یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی

ہمارا دل ذرا اکتا گیا تھا گھر میں رہ رہ کر

یونہی بازار آئے ہیں خریداری نہیں کرنی

تو مجھے تنگ نہ کر اے دل آوارہ مزاج

تجھ کو اس شہر میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا

تو مجھے تنگ نہ کر اے دل آوارہ مزاج

تجھ کو اس شہر میں لانا ہی نہیں چاہیے تھا

یہ محبت کے محل تعمیر کرنا چھوڑ دے

میں بھی شہزادہ نہیں ہوں تو بھی شہزادی نہیں

یہ محبت کے محل تعمیر کرنا چھوڑ دے

میں بھی شہزادہ نہیں ہوں تو بھی شہزادی نہیں

تو روز جس کے تجسس میں آ رہا ہے یہاں

ہزار بار بتایا ہے وہ نہیں ہوں میں

تو روز جس کے تجسس میں آ رہا ہے یہاں

ہزار بار بتایا ہے وہ نہیں ہوں میں

جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں

شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں

شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

کسی نے خواب میں آکر مجھے یہ حکم دیا

تم اپنے اشک بھی بھیجا کرو دعاؤں کے ساتھ

کسی نے خواب میں آکر مجھے یہ حکم دیا

تم اپنے اشک بھی بھیجا کرو دعاؤں کے ساتھ

یہ جو کچھ لوگ خیالوں میں رہا کرتے ہیں

ان کا گھر بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

یہ جو کچھ لوگ خیالوں میں رہا کرتے ہیں

ان کا گھر بار بھی ہوتا ہے نہیں بھی ہوتا

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر

شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

پرندے لڑ ہی پڑے جائیداد پر آخر

شجر پہ لکھا ہوا ہے شجر برائے فروخت

ہمارے سانس بھی لے کر نہ بچ سکے افضل

یہ خاکدان میں دم توڑتے ہوئے سگریٹ

ہمارے سانس بھی لے کر نہ بچ سکے افضل

یہ خاکدان میں دم توڑتے ہوئے سگریٹ

تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے

ہم کو لاحق ہیں وہی اب بھی جو غم پہلے تھے

تیرے جانے سے زیادہ ہیں نہ کم پہلے تھے

ہم کو لاحق ہیں وہی اب بھی جو غم پہلے تھے

ساتھیو اب مجھے رستے میں اترنا ہوگا

ڈوبتی ناؤ بچانے کا نہیں حل کوئی اور

ساتھیو اب مجھے رستے میں اترنا ہوگا

ڈوبتی ناؤ بچانے کا نہیں حل کوئی اور

ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک

بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے

ڈبو رہا ہے مجھے ڈوبنے کا خوف اب تک

بھنور کے بیچ ہوں دریا کے پار ہوتے ہوئے

تری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا

یہ مرا دل ہے کوئی خالی اسامی تو نہیں

تری مسند پہ کوئی اور نہیں آ سکتا

یہ مرا دل ہے کوئی خالی اسامی تو نہیں

اسی لیے ہمیں احساس جرم ہے شاید

ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا

اسی لیے ہمیں احساس جرم ہے شاید

ابھی ہماری محبت نئی نئی ہے نا

Recitation

بولیے