Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Bashir Badr's Photo'

بشیر بدر

1935 | بھوپال, انڈیا

معروف جدید شاعر، سادہ و سلیس زبان میں شعر کہنے کے لئے مشہور ہیں، جدید غزل کو معتبَر بنانے والوں میں شامل

معروف جدید شاعر، سادہ و سلیس زبان میں شعر کہنے کے لئے مشہور ہیں، جدید غزل کو معتبَر بنانے والوں میں شامل

بشیر بدر

غزل 184

اشعار 172

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو

نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے

جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

  • شیئر کیجیے

کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی

یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

اس شعر میں شاعر بے وفائی کے زخم کو بھی ایک نرم تاویل دے کر سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ضرور کچھ مجبوریاں رہی ہوں گی، ورنہ کوئی شخص یوں بلا وجہ بے وفا نہیں ہوتا۔ یہ اندازِ بیان محبوب پر سیدھا الزام رکھنے کے بجائے حالات کو شریکِ جرم ٹھہراتا ہے یوں محبت بھی بچ جاتی ہے اور دل کا دکھ بھی کسی حد تک قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی

بڑی آرزو تھی ملاقات کی

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے

جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

قصہ 5

 

کتاب 38

ویڈیو 45

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

بشیر بدر

کوئی پھول دھوپ کی پتیوں میں ہرے ربن سے بندھا ہوا

بشیر بدر

آڈیو 18

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

ابھی اس طرف نہ نگاہ کر میں غزل کی پلکیں سنوار لوں

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

"بھوپال" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے