تمام
تعارف
غزل181
شعر195
ای-کتاب126
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 36
آڈیو 45
ویڈیو 78
قطعہ2
قصہ5
بلاگ5
دیگر
نعت1
داغؔ دہلوی
غزل 181
اشعار 195
تمہارا دل مرے دل کے برابر ہو نہیں سکتا
وہ شیشہ ہو نہیں سکتا یہ پتھر ہو نہیں سکتا
تمہارا دل جذبات اور وفا میں میرے دل جیسا نہیں ہو سکتا۔
وہ دل شیشے جیسا نازک نہیں، اور یہ دل پتھر جیسا سخت نہیں ہو سکتا۔
داغؔ دہلوی نے دلوں کے فرق کو “شیشہ” اور “پتھر” کے استعارے سے واضح کیا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ دونوں کے مزاج اور احساس کی کیفیت ایک جیسی نہیں، اس لیے برابری ممکن نہیں۔ ایک دل نازک اور جلد دکھنے والا ہے، دوسرا سخت اور بےحس۔ اس میں شکوہ، رنج اور محبت کی عدم مطابقت کا درد جھلکتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
محبت میں ہزاروں طرح کے دل بہلانے والے کام ہوتے ہیں، داغؔ۔
لیکن جو لوگ کچھ نہیں کرتے، وہی اصل کمال دکھاتے ہیں۔
یہ شعر ظرافت کے ساتھ ایک تضاد باندھتا ہے: عشق میں بظاہر بہت سے مزے دار مشغلے ہیں، مگر سب سے بڑی مہارت “کچھ نہ کرنا” ہے۔ اس سے مراد بے قراری میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بجائے خاموش سپردگی، انتظار اور خود پر قابو ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق کی گہرائی اکثر بے ساختہ ٹھہراؤ میں جھلکتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے
تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
تم کہا کرتے تھے کہ ہم وفا کریں گے، ساتھ نبھائیں گے اور تمہاری بات مانیں گے۔
تمہیں یاد ہے نا کہ یہ باتیں کس کی زبان سے نکلی تھیں؟
اس شعر میں محبوب کے پرانے دعووں کو یاد دلا کر اس کی موجودہ بےوفائی پر گرفت کی گئی ہے۔ پہلے مصرع میں وفا، نباہ اور اطاعت کے وعدے ہیں اور دوسرے میں ایک طنزیہ/شکوہ آمیز سوال۔ “کس کا تھا” کہہ کر شاعر وعدوں کی ملکیت بھی جتا دیتا ہے اور ان سے پھرنے کی تلخی بھی۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
ملاتے ہو اسی کو خاک میں جو دل سے ملتا ہے
مری جاں چاہنے والا بڑی مشکل سے ملتا ہے
تم اسی شخص کو ذلیل و برباد کرتے ہو جو خلوصِ دل سے ملتا ہے۔
مجھ سے سچی محبت کرنے والا بہت مشکل سے ملتا ہے۔
شاعر شکوہ کرتا ہے کہ جو آدمی خلوص کے ساتھ قریب آئے، اسی کو خاک میں ملا دیا جاتا ہے۔ “خاک میں ملانا” ذلت، پامالی اور تباہی کا استعارہ ہے۔ دوسری مصرعے میں بتایا گیا ہے کہ جان چاہنے والا ویسے ہی نایاب ہوتا ہے، اس لیے اس کی ناقدری اور زیادہ دردناک ہے۔ جذبۂ مرکزی افسوس اور احتجاج ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
اے داغؔ، دوستوں کو بتا دو کہ یہ کوئی کھیل تماشہ نہیں۔
اردو کی زبان و بیان کی گرفت بڑی دیر اور محنت کے بعد آتی ہے۔
داغؔ کہہ رہے ہیں کہ اردو میں کمال حاصل کرنا آسان بات نہیں، اسے ہنسی کھیل میں نہیں لیا جا سکتا۔ “آتے آتے” میں دیر، ریاضت اور مسلسل مشق کا اشارہ ہے۔ لہجہ تنبیہ بھی ہے اور اپنے فن کی قدر دانی بھی کہ اصل فصاحت وقت کے ساتھ پکتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
قطعہ 2
قصہ 5
نعت 1
کتاب 126
تصویری شاعری 36
تمہارے خط میں نیا اک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے یہ کام کس کا تھا وفا کریں_گے نباہیں_گے بات مانیں_گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا رہا نہ دل میں وہ بے_درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا نہ پوچھ_گچھ تھی کسی کی وہاں نہ آؤ_بھگت تمہاری بزم میں کل اہتمام کس کا تھا تمام بزم جسے سن کے رہ گئی مشتاق کہو وہ تذکرۂ_ناتمام کس کا تھا ہمارے خط کے تو پرزے کئے پڑھا بھی نہیں سنا جو تو نے بہ_دل وہ پیام کس کا تھا اٹھائی کیوں نہ قیامت عدو کے کوچے میں لحاظ آپ کو وقت_خرام کس کا تھا گزر گیا وہ زمانہ کہوں تو کس سے کہوں خیال دل کو مرے صبح و شام کس کا تھا ہمیں تو حضرت_واعظ کی ضد نے پلوائی یہاں ارادۂ_شرب_مدام کس کا تھا اگرچہ دیکھنے والے ترے ہزاروں تھے تباہ_حال بہت زیر_بام کس کا تھا وہ کون تھا کہ تمہیں جس نے بے_وفا جانا خیال_خام یہ سودائے_خام کس کا تھا انہیں صفات سے ہوتا ہے آدمی مشہور جو لطف عام وہ کرتے یہ نام کس کا تھا ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغؔ بے_وفا نکلا یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا
لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے جو زمانے کے ستم ہیں وہ زمانہ جانے تو نے دل اتنے ستائے ہیں کہ جی جانتا ہے تم نہیں جانتے اب تک یہ تمہارے انداز وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے انہیں قدموں نے تمہارے انہیں قدموں کی قسم خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے دوستی میں تری در_پردہ ہمارے دشمن اس قدر اپنے پرائے ہیں کہ جی جانتا ہے