Ghulam Murtaza Rahi's Photo'

غلام مرتضی راہی

1937 | فتح پور, انڈیا

غلام مرتضی راہی

غزل 34

اشعار 49

اب اور دیر نہ کر حشر برپا کرنے میں

مری نظر ترے دیدار کو ترستی ہے

چلے تھے جس کی طرف وہ نشان ختم ہوا

سفر ادھورا رہا آسمان ختم ہوا

  • شیئر کیجیے

ہر ایک سانس مجھے کھینچتی ہے اس کی طرف

یہ کون میرے لیے بے قرار رہتا ہے

  • شیئر کیجیے

کوئی اک ذائقہ نہیں ملتا

غم میں شامل خوشی سی رہتی ہے

  • شیئر کیجیے

آتا تھا جس کو دیکھ کے تصویر کا خیال

اب تو وہ کیل بھی مری دیوار میں نہیں

کتاب 13

"فتح پور" کے مزید شعرا

 

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

GET YOUR FREE PASS
بولیے