ہاشم علی خاں دلازاک
غزل 1
اشعار 1
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے
اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے
کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ
-
شیئر کیجیے
- غزل دیکھیے